• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد و راولپنڈی میں آج سے دفاتر و تعلیمی ادارے بند کرنے کا نوٹیفیکشن جعلی نکلا

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے 20 اپریل سے دارالحکومت اور راولپنڈی میں تمام سرکاری و نجی دفاتر تاحکمِ ثانی بند رہنے سے متعلق زیر گردش نوٹیفکیشن جعلی قرار دے دیا۔

انہوں نے اتوار کے روز  سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آج (پیر کے روز) اسلام آباد کے تمام تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے اور ان کی بندش سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں اور اپڈیٹس کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں۔

دوسری جانب کابینہ ڈویژن کی جانب سے رات گئے جاری ایک علیحدہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع تمام وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی سرکاری دفاتر کا عملہ 20 اپریل کو گھر سے کام کرے گا۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام افسران اور سیکریٹریل اسٹاف اپنے اسٹیشن پر موجود رہیں گے اور مختصر نوٹس پر دفتر آنے کے لیے تیار رہیں گے۔

ایک اور نوٹیفکیشن میں ضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد نے کہا ہے کہ 20 اپریل کو ریڈ زون میں داخلہ معطل رہے گا، علاقے میں موجود سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی ادارے کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لیے مذکورہ تاریخ کو ورک فرام ہوم کا طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔

پولیس کے مطابق ممکنہ غیر ملکی وفود کی آمد کے پیشِ نظر ریڈ زون کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ متبادل ٹریفک راستے فراہم کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں پبلک اور ہیوی ٹرانسپورٹ کو بھی اگلے احکامات تک معطل کر دیا گیا ہے۔

ادھر راولپنڈی ضلعی انتظامیہ نے بھی اتوار دوپہر سے تمام پبلک اور مال بردار ٹرانسپورٹ کو تاحکمِ ثانی معطل کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ان کے نمائندے پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جنہوں نے ایک ہفتہ قبل جنگ سے متعلق ابتدائی امن مذاکرات کی قیادت کی تھی۔

وفد میں امریکی صدر ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے، تاہم ٹرمپ نے علیحدہ طور پر اے بی سی نیوز اور ایم ایس ناؤ کو بتایا کہ جے ڈی وینس اس دورے میں شامل نہیں ہوں گے۔

قومی خبریں سے مزید