• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

5,300 سال پرانی ممی میں قدیم جراثیم آج بھی متحرک ہونے کا انکشاف

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

اٹلی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 5,300 سال پرانی مشہور ’آئس مین‘ ممی کے جسم میں موجود قدیم جراثیم اور سرد ماحول میں زندہ رہنے والے خمیر (Yeast species) اب بھی سرگرم ہیں۔

’اوٹزی دی آئس مین‘ (Ötzi the Iceman) نامی مشہور ممی 1991ء میں اٹلی اور آسٹریا کے سرحدی پہاڑوں الپس سے برف میں جمی ہوئی ملی تھی، یہ شخص تقریباً 5 ہزار 300 سال پہلے تانبے کے دور میں جیتا تھا اور ایک تیر لگنے سے اس کی موت واقع ہوئی تھی۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تحقیق میں بتایا کیا گیا ہے کہ ممی کی جِلد، اندرونی بافتوں (ٹشوز) اور رطوبت کے نمونوں میں ایسے جراثیم پائے گئے ہیں جو اس شخص کی آخری خوراک سے مطابقت رکھتے ہیں جس میں چکنائی سے بھرپور جانور کا گوشت، قدیم اناج اور زہریلے پودے شامل تھے۔

ماہرین نے ایسے نایاب بیکٹیریاز بھی دریافت کیے ہیں جو جدید شہری انسانوں میں تقریباً ختم ہو چکے ہیں تاہم دنیا کے بعض دور دراز قبائلی علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔

سب سے حیران کُن بات یہ سامنے آئی ہے کہ اس میں موجود کچھ خمیر کی اقسام گزشتہ 9 سال کے دوران مزید بڑھ گئی ہیں۔ 

محققین کے مطابق یہ خُردبینی جاندار (Microorganisms) اب ان جراثیم کش کیمیائی مادوں کو بھی خوراک کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جو ممی کے تحفظ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ناصرف انسانی صحت اور ارتقا کے ماضی کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ قدیم نوادرات اور ممیز کے تحفظ کے حوالے سے نئی معلومات بھی فراہم کرے گی۔

خاص رپورٹ سے مزید