• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی جوہری سائنسدان کی لاش جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیوں کا معمہ مزید پیچیدہ ہو گیا

---تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا
---تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا

امریکا میں جوہری تنصیبات سے وابستہ افراد کی پراسرار گمشدگیوں کا معمہ مزید پیچیدہ ہوگیا، 1 سال قبل لاپتہ ہونے والی سائنسدان میلیسا کاسیاس کی لاش نیو میکسیکو کے جنگلاتی علاقے سے برآمد کر لی گئی۔

54 سالہ میلیسا کاسیاس جون 2025ء میں اچانک لاپتہ ہو گئی تھیں، وہ امریکا کی معروف جوہری تحقیقاتی تنصیب لاس الاموس نیشنل لیبارٹری (LANL) میں ملازمت کرتی تھیں، جس کی بنیاد دوسری جنگِ عظیم کے دوران مین ہیٹن پراجیکٹ کے تحت رکھی گئی تھی۔

نیو میکسیکو اسٹیٹ پولیس کے مطابق ایک ہائیکر نے کارسن نیشنل فاریسٹ کے  علاقے میں ان کی لاش برآمد کی، جس کے قریب ایک ہینڈگن بھی موجود تھی، تاہم موت کی اصل وجہ اور وقت کا تعین تاحال نہیں ہو سکا، معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسلحے کی ملکیت اور دیگر شواہد کی جانچ میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق لاپتہ ہونے والے دن میلیسا نے اپنے شوہر کو لیبارٹری پہنچایا اور بعد ازاں اپنی بیٹی کو کھانا دینے گئیں، بعد میں انہوں نے شوہر کو بتایا کہ میں اپنا شناختی بیج گھر بھول گئی ہوں اور اسے لینے واپس جا رہی ہوں۔

تاہم جب ان کے شوہر گھر پہنچے تو بیج وہیں موجود تھا جبکہ ان کا ذاتی موبائل فون بھی مکمل طور پر وائپ کیا جا چکا تھا اور میلیسا کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

اس کیس نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی کیونکہ گزشتہ 1 سال کے دوران نیو میکسیکو میں جوہری تنصیبات یا حساس تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد پراسرار حالات میں لاپتہ یا ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان واقعات کے بعد امریکی حکام نے ایف بی آئی سے معاملے کی تحقیقات میں مدد طلب کی ہے، تاہم ابھی تک اس بات کے شواہد سامنے نہیں آئے کہ یہ تمام واقعات آپس میں منسلک ہیں یا کسی منظم سازش کا حصہ ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید