دہلیز اور آنکھیں…
یہ ان آنکھوں کی کہانی ہے، جو ہر وقت دروازے پر ٹکی رہتیں۔
وہ آنکھیں انتظار کرتیں کہ جس نے آج دہلیز عبور کی ہے،
وہ شام تک خیر و عافیت سے گھر لوٹ آئے۔
کبھی وہ کسی ماں کی آنکھیں ہوا کرتیں، جو اپنی اولاد کی منتظر ہوتی،
کبھی کسی بیٹی کی، کبھی کسی بہن کی،
اور کبھی کسی عورت کی آنکھیں، جو اپنے شوہر کی منتظر ہوتی۔
مگر کبھی کبھی یوں ہوتا کہ دہلیز کے باہر پھیلی اندیشوں کی دنیا میں،
کوئی حادثہ پیش آ جاتا، ان کا اپنا کھو جاتا، لوٹ نہیں پاتا۔
اور تب دہلیز پر ٹکی وہ آنکھیں، خاموشی میں ڈوب جاتیں، بے نور سی ہو کر بجھ جاتیں۔