عالمی سیاست کے نقشے پر پاکستان کی حیثیت ہمیشہ سے ایک کلیدی ریاست کی رہی ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں اسلام آباد نے جو ’سفارتی کرشمہ‘ کردکھایا ہے، اس نے بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ دہائیوں سے جاری ایران امریکہ کشیدگی، جس نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو مسلسل غیر یقینی صورتحال سے د وچار رکھا، اب پاکستان کی ثالثی کے باعث بطریق احسن ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ محض پاکستان کی نگرانی میں دو ممالک کے درمیان مذاکرات نہیں ، بلکہ ایک ایسی سفارتی پیش رفت ہے جو عالمی طاقت کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔پاکستان دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت واشنگٹن اور تہران کیساتھ تزویراتی تعلقات رکھتا ہے۔ پاکستان کے امریکہ کیساتھ تعلقات سات دہائیوں پر محیط ہیں۔دفاعی تعاون، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شراکت داری اور معاشی روابط نے پاکستان کو واشنگٹن کی نظر میں ہمیشہ ایک اہم کھلاڑی بنائے رکھا ہے۔
ایران کیساتھ پاکستان کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ جغرافیائی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر استوار ہیں۔ پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے انقلابِ ایران کو تسلیم کیا، اور آج دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور تجارتی روابط کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اسی دوہری حیثیت نے پاکستان کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ ان دو مخالف قوتوں کے درمیان ایک ایسے نیوٹرل گراؤنڈکے طور پر ابھرے جہاں دونوں فریق بلا جھجھک اپنی بات رکھ سکیں۔
اس پورے عمل کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے جس متحرک سفارتکاری کا مظاہرہ کیا، وہ پاکستانی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھاجائیگا۔انہوں نے سعودی قیادت اور قطری حکام کو قائل کیا کہ ایران امریکہ مذاکرات کی کا میابی میں ہی پورے خطے کی خوشحالی پنہاں ہے۔ترکیہ میںصدر رجب طیب ایردوان کا وزیراعظم شہباز شریف کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا اور پاکستان کی ثالثی کی مکمل حمایت کا اعلان کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ترکیہ جیسا اہم عالمی کھلاڑی بھی پاکستان کی صلاحیتوں کا معترف ہے۔ وہاں موجود عالمی رہنماؤں کا وزیراعظم سے ملاقات کیلئے اشتیاق اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا اب پاکستان کومسئلہ حل کرنیوالی قوت (Problem Solver) کے طور پر دیکھ رہی ہے۔جدید دور میں جہاں روایتی سفارتکاری اپنی حدوں کو چھونے لگتی ہے،وہاںعسکری سفارتکاری (Military Diplomacy) راستے کھولتی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس محاذ پر ایک خاموش لیکن انتہائی موثر کردار ادا کیا ہے۔ ان کے تہران کے دورے اور ایرانی عسکری و سیاسی قیادت کے ساتھ گفتگو نے ان نازک سکیورٹی خدشات کو دور کیا جو اکثر سیاسی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔امریکی دفاعی حکام کے ساتھ انکے مسلسل رابطوں نے واشنگٹن کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان کی ضمانت پائیدار ہے اور اسلام آباد میں ہونیوالے مذاکرات محض فوٹو سیشن نہیں بلکہ ایک ٹھوس تزویراتی عمل ہیں۔صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کی تعریف اور ان کی اسلام آباد آمد کی خبروں نے عالمی میڈیا میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ اگر ایک امریکی صدر اس عمل کا حصہ بننے کیلئے پاکستان آنے پر آمادہ ہے، تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ ٹرمپ کے پاکستان آنے کی صورت میں صدر ایردوان سمیت دیگرچند ممالک کے سربراہان کے بھی پاکستان آنے کی توقع کی جا رہی ہےجس نےاسلام آباد کو ’’عالمی امن کے دارالحکومت‘‘ میں بدل دیا ہے۔
پاکستان نے مذاکرات کی داغ بیل ڈال کر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بلاک کی سیاست کا حصہ بننے کے بجائے امن کا بلاک بنانا چاہتا ہے۔ پاکستان کی معیشت، سی پیک کی کامیابی اور گوادر کی بندرگاہ کا مستقبل ا سی علاقائی امن سے وابستہ ہے۔ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے ہوں یا امریکہ کے ساتھ ٹیکنالوجی اور تجارت کے معاہدے، پاکستان نے اپنی جغرافیائی حیثیت کو ایک سفارتی ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔
پاکستان کی اس کامیابی میں چین، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کا تعاون بھی شا مل ہے۔ انطالیہ میں ہونے والا چار فریقی اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان تنہا نہیں ہے بلکہ اسے خطے کے تمام اہم کھلاڑیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ پاکستان کی وہ کرشماتی سفارتکاری ہے جس نے تہران کے انقلابی جذبے اور واشنگٹن کی عالمی برتری کے درمیان ایک ایسا درمیانی راستہ تلاش کر لیا ہے جو اب تک ناممکن سمجھا جاتا تھا اور سب سے بڑھ کر پاکستان نے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اپنی غیر جانبداری کوثابت کرتے ہوئے ان تمام ممالک کی اشیرباد حاصل کرکھی ہے جوکسی کرشمے سے کم نہیںاور دنیا کا کوئی اور ملک ایسا کرنے کی ہرگز صلاحیت نہیں رکھتا، اسی صلاحیت نے پاکستان کو عالمی سفارتکاری کا چیمپئن بنادیا ہے۔پاکستان کی سرزمین پر ہونے والےمذاکرات صرف دو ملکوں کے درمیان تصفیہ نہیں بلکہ عالمی سیاست میں پاکستان کے ’’ری برانڈنگ‘‘کا عمل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری قوت نے مل کر ایک ایسی ڈھال تیار کی ہے جس نے پاکستان کو عالمی تنہائی سے نکال کر عالمی قیادت کے منصب پر فائز کر دیا ہے۔اگر یہ دوسرا راؤنڈ کسی حتمی فریم ورک کی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو یہ نہ صرف ایران اور امریکہ کیلئے جیت ہوگی، بلکہ یہ پاکستان کی اس عظیم الشان سفارتکاری کی جیت ہوگی جس نے جنگ کے بادلوں کو امن کی نوید میں بدل دیا۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ جب نیت صاف ہو اور قیادت باصلاحیت، تو کرشمے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اسلام آباد کا افق آج ایک روشن مستقبل کی گواہی دے رہا ہے۔