اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (IOM) کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025ء کے دوران ہجرت کے مختلف راستوں پر 7,904 مہاجرین ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی رپورٹ کے مطابق 2025ء کے اعداد و شمار 2024ء کے مقابلے میں کم ہیں، 2024ء میں 9,197 اموات و گمشدگیاں ریکارڈ کی گئی تھیں تاہم تقریباً 1,500 ممکنہ کیسز کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
رپورٹ کے مطابق 2014ء کے بعد سے اب تک ہجرت کے راستوں پر مجموعی طور پر 82,000 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ تقریباً 3,40,000 خاندان براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 40 فیصد سے زائد اموات سمندری راستوں پر یورپ کی جانب سفر کے دوران ہوئیں، متعدد واقعات ایسے تھے جنہیں ’غیر مرئی بحری حادثات‘ قرار دیا گیا جہاں پوری کشتیاں لاپتہ ہو گئیں اور اِن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
مغربی افریقہ کے شمالی راستے پر 1,200 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ ایشیاء میں اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی جن میں میانمار سے فرار ہونے والے روہنگین مہاجرین بھی شامل ہیں جو بنگلا دیش کے کیمپوں یا تنازعات سے متاثرہ علاقوں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ ہجرت کے راستے بدل رہے ہیں مگر خطرات کم نہیں ہوئے، تنازعات، موسمیاتی دباؤ اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث یہ راستے مزید خطرناک ہو رہے ہیں۔
ادارے کی عہدیدار ماریا موئٹا نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار اجتماعی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان ہلاکتوں کو روکا نہیں جا سکا۔