یورینیئم افزودگی ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے قدرتی یورینیئم میں موجود مخصوص جزو U-235 کی مقدار بڑھائی جاتی ہے تاکہ اسے توانائی یا ہتھیاروں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
قدرتی یورینیئم میں U-235 کی مقدار صرف تقریباً 0.7 فیصد ہوتی ہے، جبکہ ایٹمی بجلی کے لیے اسے 3 سے 5 فیصد تک بڑھایا جاتا ہے اور ایٹم بم بنانے کے لیے یہی تناسب تقریباً 90 فیصد تک درکار ہوتا ہے۔
یورینیئم کو افزودہ کرنے کے لیے اسے پہلے گیس (یورینیئم ہیکسافلورائیڈ) میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے تیز رفتار سینٹری فیوجز میں گھمایا جاتا ہے، اس عمل میں ہلکا جزو (U-235) الگ ہو کر زیادہ مقدار میں جمع کیا جاتا ہے اور یہی عمل بار بار دہرا کر مطلوبہ سطح حاصل کی جاتی ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق 20 فیصد سے کم افزودگی کو کم سطح (LEU) جبکہ 20 فیصد سے زیادہ کو زیادہ سطح (HEU) کہا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا یورینیئم موجود ہے، جو اگر مزید بڑھا کر 90 فیصد کیا جائے تو نظریاتی طور پر کئی کم طاقت کے ایٹمی ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 60 فیصد سے 90 فیصد تک پہنچنا نسبتاً تیز عمل ہوتا ہے اور یہ چند ہفتوں میں ممکن ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام تکنیکی وسائل دستیاب ہوں۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ نئے جوہری معاہدے کو 2015ء کے معاہدے سے بہتر قرار دیا ہے، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران مکمل طور پر یورینیئم افزودگی روک دے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد، جیسے بجلی پیدا کرنے کے لیے ہے، تاہم عالمی سطح پر خدشات برقرار ہیں کہ اگر افزودگی کی سطح مزید بڑھی تو یہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایٹم بم بنانے کے لیے صرف افزودہ یورینیئم کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ڈیزائن، دھاتی تیاری اور ترسیل کے نظام (میزائل وغیرہ) بھی درکار ہوتے ہیں، اس لیے حتمی تیاری کا وقت کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔