ایرانی وزارتِ انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ ملک کے مغربی علاقوں میں بڑا آپریشن کیا ہے، جس میں 100 سے زائد دھماکا خیز ڈیوائسز بھی ضبط کی ہیں۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وزارتِ اطلاعات نے کہا ہے کہ کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے 2 صوبوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے تقریباً 240 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایرانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق کردستان صوبے میں کارروائیوں کے دوران آئی آر جی سی نے 11 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران کرد مسلح گروہ کا رکن مارا گیا۔
حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں اسلحہ اور گولہ بارود کا ایک ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
اسی صوبے میں علیحدہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران مزید تقریباً 70 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ بم بنانے اور اسلحہ اسمگلنگ کرنے جیسی مختلف مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
میڈیا کے مطابق کرمانشاہ صوبے میں بھی بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی، جہاں مجموعی طور پر 155 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد انسدادِ انقلاب گروہوں سے تعلق رکھتے تھے، جن میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے 4 جاسوس بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب تہران میں پولیس نے ایک شخص کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ میزائل حملوں کے مقامات سے متعلق معلومات اکٹھی کر کے انہیں دشمن نیٹ ورکس تک پہنچا رہا تھا۔