آبنائے ہرمز اور اس کے گرد سمندری راستوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جس نے 90ء کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی تیل بردار جہازوں کی جنگ کی یاد تازہ کر دی ہے تاہم موجودہ صورتِ حال کئی حوالوں سے مختلف ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 90ء کی دہائی کی جنگ میں ایران اور عراق نے ایک دوسرے کے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا تھا تاکہ اقتصادی دباؤ ڈالا جا سکے۔
اس دوران بھی آبنائے ہرمز میں سمندری تجارت شدید متاثر ہوئی تھی اور کئی ممالک کے جہازوں پر حملے ہوئے تھے، ایران نے اس وقت بھی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی تھی مگر اپنی برآمدات کے انحصار کے باعث اسے مکمل طور پر بند نہیں کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکا اور اس کے اتحادیوں نے خلیجی جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری فوجی آپریشن شروع کیا تھا اور کئی بحری جہازوں کو اپنے پرچم کے تحت تحفظ فراہم کیا تھا۔
90ء کی دہائی میں ہونے والی ایران عراق جنگ کے دوران بارودی سرنگوں اور حملوں سے کئی بحری جہاز نقصان کا شکار ہوئے اور صورتِ حال باقاعدہ سمندری جنگ میں تبدیل ہو گئی تھی۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ بحران میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ کے باعث خلیجِ ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں پر شدید اثر پڑا ہے، ایران نے بعض غیر ملکی جہازوں کی آمد و رفت پر پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ بعض جہازوں کو روکنے اور ضبط کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، امریکا نے بھی ایران سے منسلک جہازوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کا تیل اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
اگرچہ دونوں ادوار میں بارودی سرنگوں کا خطرہ اور بحری راستوں کی بندش جیسے مسائل مشترک ہیں تاہم آج کی صورتِ حال میں جدید ٹیکنالوجی، مختلف عسکری حکمتِ عملی اور عالمی طاقتوں کی براہِ راست مداخلت نے اس بحران کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 90ء کی دہائی کے برعکس اب خطے میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے اور ایران زیادہ جارحانہ اور غیر روایتی عسکری حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے جس میں میزائل، ڈرون اور سائبر حملے شامل ہیں۔
یوں خلیجِ ہرمز ایک بار پھر عالمی معیشت کے لیے حساس ترین سمندری گزرگاہ بن چکی ہے جہاں معمولی کشیدگی بھی بڑے معاشی اثرات پیدا کر سکتی ہے۔