• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوریکل میں 20 ہزار سے زائد ملازمتیں ختم، کیا اے آئی سینئر ملازمین کو متاثر کر رہی ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل نے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی چھانٹی کا اعلان کرتے ہوئے دنیا بھر میں تقریباً 20 سے 30 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا ہے، یہ فیصلے صبح سویرے ای میلز کے ذریعے سنائے گئے جن سے امریکا، بھارت، کینیڈا اور لاطینی امریکا کے ملازمین متاثر ہوئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ اوریکل کے اس بڑے اقدام نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ کئی دہائیوں سے کام کرنے والے تجربہ کار ملازمین بھی ان چھانٹیوں کا شکار بن رہے ہیں۔

33 سال سے زائد عرصے تک کمپنی سے وابستہ ایک سینئر سیکیورٹی ماہر نے بھی برطرفی پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ ممکنہ طور پر کسی اندرونی نظام نے سینئر ملازمین کو نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق یہ رجحان صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں، گزشتہ چند ہفتوں میں دیگر بڑی کمپنیوں نے بھی ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا ہے، اس کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت میں تیزی سے سرمایہ کاری اور کام کے طریقوں میں تبدیلی بتائی جا رہی ہے۔

کمپنیاں اب کم لاگت اور زیادہ منافع کے لیے خودکار نظام اپنا رہی ہیں، اس کے نتیجے میں ناصرف ابتدائی سطح کی نوکریاں کم ہو رہی ہیں بلکہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بھی دباؤ کا شکار ہیں۔

کئی ادارے مہنگے ملازمین کی جگہ کم تنخواہ والے عملے اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے گریجویٹس کے لیے ملازمت حاصل کرنا اب مزید مشکل ہو گیا ہے جبکہ درمیانے اور سینئر سطح کے ملازمین سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید