بھارت کی معروف سونے کی کمپنی راجیش ایکسپورٹس شدید قانونی اور مالی بحران میں گھِر گئی ہے۔
بھارتی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ (سیبی) نے کمپنی اور اس کے چیئرمین راجیش مہتا کو عبوری طور پر سیکیورٹیز مارکیٹ سے دور رہنے کا حکم دیتے ہوئے 15.15 لاکھ کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیبی کا کہنا ہے کہ مالی سال 2021ء سے 2025ء کے دوران کمپنی نے اپنی مجموعی آمدنی میں غیر معمولی اعداد و شمار ظاہر کیے جن کی تصدیق متعلقہ ذیلی کمپنیوں کے ریکارڈ سے نہیں ہو سکی۔
ریگولیٹر کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ کردہ آمدنی اور دستیاب مالی ریکارڈ میں 15.15 لاکھ کروڑ روپے کا فرق پایا گیا۔
ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ کمپنی نے تحقیقات کے دوران کئی اہم دستاویزات، صارفین اور سپلائرز کی تفصیلات اور ذیلی کمپنیوں کے مالی ریکارڈ مکمل طور پر فراہم نہیں کیے جس سے حقائق کی جانچ مشکل ہو گئی ہے۔
سیبی نے 1,035 کروڑ روپے کی اُس سرمایہ کاری پر بھی سوال اٹھایا ہے جو کمپنی نے افریقا میں سونے کی کانوں سے متعلق ظاہر کی تھی۔
ریگولیٹر کے مطابق اس سرمایہ کاری کے حق میں مطلوبہ دستاویزات اور تشخیصی رپورٹس فراہم نہیں کی گئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقات میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ 11,487 کروڑ روپے کی فروخت اور 11,488 کروڑ روپے کی خریداری کا ریکارڈ بھی مشکوک قرار دیا گیا ہے، مذکورہ کمپنی نے ایسے کسی کاروباری تعلق یا لین دین سے انکار کیا ہے۔
سیبی کے مطابق کمپنی کے 7.4 کروڑ روپے پروموٹر کے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے اور ان میں سے کچھ رقم ذاتی ڈیریویٹو تجارت میں استعمال ہوئی، ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ یہ لین دین بورڈ کی منظوری اور مناسب انکشافات کے بغیر کیا گیا۔
سیبی کے اندازے کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث سرمایہ کاروں کو تقریباً 12,726 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، سرکاری بیمہ کمپنی لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا بھی کمپنی کے بڑے شیئر ہولڈرز میں شامل ہے۔
دوسری جانب کینرا بینک نے کمپنی کے تقریباً 509 کروڑ روپے کے قرض کو دباؤ والے اثاثے کے طور پر درجہ بند کرتے ہوئے وصولی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیبی کا حکم عبوری نوعیت کا ہے اور کمپنی کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے تاہم اگر الزامات ثابت ہو گئے تو کمپنی اور اس کی انتظامیہ کو بھاری جرمانوں، طویل پابندیوں اور مزید قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔