ایک پرانی کہاوت ہے کہ ہنسی بہترین دوا ہے، مگر اب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا خاص طور پر آنتوں کی صحت پر کافی مثبت اثر پڑتا ہے۔
ہنسی کی صحت پر مثبت اثرات کے حوالے سے کافی تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بار بار ہنسنا مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور پیٹ کے عضلات کو طاقتور بنانے میں مدد دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق روزانہ دس منٹ ہنسنے سے تقریباً 50 کیلوریز تک جل سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہلکی پھلکی ہنسی یعنی مسکراہٹ بھی آنتوں کی صحت کے لیے اسی طرح فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
پرون بائیوٹکس کلینیکل ریسرچ کی گٹ (نظام ہضم) نیوٹریشنسٹ ایڈرین بینجمن کا کہنا ہے کہ ہنسی صرف ایک جذباتی ردعمل نہیں ہے بلکہ یہ جسم میں جسمانی تبدیلیاں بھی پیدا کرتی ہے۔ جب ہم ہنستے ہیں تو ہمارے پیٹ کے پٹھے سکڑتے اور ڈھیلے پڑتے ہیں، جو ہاضمے کی سرگرمی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سکون فراہم کرتی ہے اور اینڈورفنز خارج کرتی ہے، جو درد کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
ہنسی کے دوران پیدا ہونے والی ہلکی اندرونی مساج آنتوں کی حرکت کو معاونت فراہم کرتی ہے، جس سے خوراک کے ہضم کا عمل بہتر ہوتا ہے اور پھنسی ہوئی گیس کے اخراج میں بھی مدد ملتی ہے۔
اس سے قبل کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ ہنسنے سے آنتوں کی خرابی (آئی بی ایس) کے مریضوں میں معدے کی علامات کو بعض ادویات کے مقابلے میں زیادہ کم کیا۔
2022 کی ایک تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ خاندان اور دوستوں کے ساتھ ہنسنا فنکشنل ڈِسپیپسیا (ایک دائمی بیماری جو مسلسل بدہضمی کا سبب بنتی ہے) کے خطرے کو کم کرنے سے منسلک ہے۔
ایڈرین بینجمن کے مطابق ہنسی کے صرف جسمانی اثرات ہی نہیں ہیں جو ہاضمے کے مسائل میں مدد دے سکتے ہیں۔ ذہنی دباؤ کو وسیع پیمانے پر ایک اہم عنصر تسلیم کیا جاتا ہے جو آنتوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ تناؤ ہاضمے کے عمل میں خلل ڈالتا ہے، آنتوں کی حرکت کو بدل دیتا ہے اور آنتوں کے مائیکروبائیوم کو متاثر کرتا ہے۔ آج کے تیز رفتار ماحول میں، ہنسی ان اثرات کا مقابلہ کرنے کا ایک قدرتی اور آسان ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ جب ہم ہنستے ہیں تو جسم زیادہ پرسکون حالت میں آ جاتا ہے، جس سے اسٹریس ہارمونز کم ہوتے ہیں اور نظامِ ہضم کو سہارا ملتا ہے۔ یہ جسم کے اسٹریس رسپانس کو منظم کرنے میں مدد دے کر جسم کو پرسکون حالت میں لے آتا ہے، جس سے آنتیں بہترین طریقے سے کام کرتی ہیں۔