سفر……
میں سبزے کی تلاش میں نکلا، مگر باہر فقط صحرا تھا۔
مجھے پانی کی تلاش تھی، مگر باہر فقط پیاس تھی۔
مجھے بھوک ستا رہی تھی، مگر باہر فقط قحط تھا۔
مجھے امن کی خواہش تھی، مگر باہر فقط جنگ تھی۔
مجھے زندگی کی آرزو تھی، مگر باہر فقط موت تھی۔
میں نے باہر سے مایوس ہو کر داخل کا سفر شروع کیا،
تاکہ انتشار سے نجات پا سکوں۔
اندر جھانکا، تو اندر بھی ویرانی، پیاس، قحط، جنگ اور موت نظر آئی۔
تب میں نے جانا کہ بیرونی دنیا نے میرے اندرون پر غلبہ پا لیا ہے،
جس سے نجات کیلئے مجھے تلاش ذات کا طویل سفر کرنا ہوں۔
اپنے اندر کی ویرانی میں…
روشنی کے بیج بونے ہوں گے۔