• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ کے بعد پہلی بار امریکی وزیر دفاع کانگریس میں پیش

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی 

ایران جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ پہلی بار کانگریس کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

کمیٹی میں ٹرمپ انتظامیہ کی آئندہ برس کے دفاعی بجٹ کو 1.5 کھرب ڈالر تک بڑھانے کی تجویز پر بحث کی جا رہی ہے، امریکی وزیر جنگ اور جنرل ڈین کین کانگریس ہاوس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری پر بریفنگ دی، یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر دفاع ہگستھ ایران  کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان کے سامنے باضابطہ طور پر گواہی دی۔

امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ صدر ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، جنگ کو ابھی دو ماہ ہوئے، یہ امریکا کی بقا کی جنگ ہے، ہم امریکا کو محفوظ بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں، امریکیوں کو اپنی افواج پر فخر ہے، ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جنھوں نے امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات کیے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے منظم اور پیشہ ور فوج ہے، ایران جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے، امریکا کو مزید بنانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

جنرل ڈین کین نے کہا کہ 1.5 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ مستقبل کی سیکیورٹی کے لیے تاریخی سرمایہ کاری ہے، جدید جنگوں میں تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے باعث زیادہ سرمایہ کاری ضروری ہو گئی ہے، دنیا بھر کے میدانِ جنگ میں اب ٹیکنالوجی کا کردار بڑھ رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید