آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
چیئرمین واپڈا ظفر محمود کی کالا باغ ڈیم کے مسئلے پر طویل اقساط کی اشاعت کے بعد بحث کا آغاز خوش آئند ہے۔ جنگ 2 اگست کی اشاعت میں ممبر قومی اسمبلی محترم نواب یوسف تالپور نے بجا لکھا کہ 1960ء میں جنرل ایوب خان کے دور میں بھارت کے ساتھ سندھ طاس کا معاہدہ کیا گیا ، اس کے تحت پنجاب ( سرائیکی خطہ ) کے تین دریا ستلج ، بیاس اور راوی بھارت کو دیدیئے تھے ۔ان دریاؤں کا سودا کرنے والوں کے خلاف ظفر محمود صاحب کی زبان خشک ہے ۔ معاملات کی تحقیقات ہونی چاہئے اور ان تمام افراد پر مقدمات چلائے جائیں جو اس شرمناک معاہدے میں ملوث ہیں ۔تالپور صاحب مزید لکھتے ہیں کہ بالکل اسی طرح جس طرح سید جماعت علی شاہ بھارت سے پانی کے معاملے میں سودے بازی کر کے ملک سے باہر فرار ہو گئے۔ حقیقت یہی ہے کہ سارا معاملہ دریاؤں کی فروختگی کی وجہ سے خراب ہوا ۔ سندھ طاس معاہدہ کے وقت ون یونٹ تھا، مغربی پاکستان کا دارالحکومت لاہور تھا ۔ تمام معاملات پنجاب کے ہاتھ میں تھے ۔ محترم ظفر محمود کو غیر جانبدار فریق کے طور پر دیکھنا چاہئے تھا۔ بحیثیت چیئرمین واپڈا ان کا نقطہ نظر پاکستان کا موقف ہونا چاہئے تھا لیکن ان کی تمام اقساط پنجاب کے موقف کے گرد گھومتی رہیں ، جس سے کالا باغ کا مسئلہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھ گیا ہے۔ کالا باغ ڈیم پر پنجاب کا موقف آیا

اور سندھ کا موقف تواتر سے آتا رہتا ہے لیکن سرائیکی قوم جو کالا باغ ڈیم کی وارث ہے کا موقف نہ سنا گیا تو سرائیکی وسیب سے امتیازی سلوک ہو گا۔ سب سے پہلے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوںکہ ایک غلط فہمی دریائے سندھ کے نام سے ہے ۔ صوبہ سندھ والے محض نام کی وجہ سے دریائے سندھ کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں جو کہ درست نہیں۔ سندھ کا لغوی معنی دریا ہے اور دریائے سندھ کے آغاز سے اختتام تک اس کے کئی نام مثلاً جہاں سے شروع ہوتا ہے ، وہاں اس کا نام اباسین ہے ۔ ’’ ابا سئیں ‘‘ سرائیکی لفظ ہے جس کا مطلب ’’ دریاؤں کا باپ ‘‘ ، آگے یہ بہت بڑی جھیل کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کا نام ’’ مہو ڈھنڈ ‘‘ ہے ۔ یہ بھی سرائیکی لفظ ہے ، سرائیکی میں ’’ ڈھنڈ ‘‘ ڈیم کو کہتے ہیں ۔ مہو یا ’’ موہانڑیں ‘‘ مچھلیاں پکڑنے والے کو کہتے ہیں ۔ وسط میں اس دریا کا نام ’’ نیلاب ‘‘ ہے ۔ آگے آکر یہ دریائے اٹک ہے ۔ سرائیکی خطے میں اس کا نام سندھ ہے ۔ سب سے اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ صوبہ سندھ میں دریائے سندھ نہیں بلکہ ’’ مہران ‘‘ ہے ۔اگر نام سے ملکیت کا دعویٰ مضبوط ہوتا ہے تو پھر اس کے بلا شرکت غیرے سرائیکی مالک ہیں کیونکہ دریائے سندھ کا نام صرف سرائیکی علاقے میں سندھ ہے اور ویسے بھی سرائیکی دھرتی کو تاریخی کتابوں میں سپت سندھو یعنی سات دریاؤں کی سر زمین کے نام سے یاد کیا گیا تو میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اصل فریق سرائیکی ہے ۔
اصل اور حقیقی بات یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ۔ آبی ذخائر کی تعمیر کے سلسلے میں پنجاب پر کیوں اعتماد نہیں کیا جاتا؟ ماضی قریب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ساری کہانی سمجھ آ جاتی ہے ۔ تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد دریائے سندھ پر پانچ بیراج تعمیر ہوئے ، تین سندھ میں اور دو سرائیکی وسیب میں مگر ان بیراجوں سے نکلنے والی نہروں میں پانی آنے سے قبل سیراب ہونےوالی زمینوں کے اکثر رقبے پنجاب کی سول اور ملٹری بیوروکریسی کو الاٹ ہو چکے تھے۔ اس سلسلے میں پنجاب کے دانشور جناب پروفیسر عزیز الدین احمد کی کتاب ’’ کیا ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں ‘‘ میں پوری تفصیل درج کی گئی ہے ۔ کوٹری کے غلام محمد بیراج سے غیر مقامی لوگوں کو کتنی زمین الاٹ ہوئی۔ سکھر بیراج کی پٹ فیڈر پر کتنی زمینیں غیر حقداروں کو ملیں ۔ اسی طرح میری کتاب ’’ سرائیکی وسیب ‘‘ کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ تاریخ ارضیات کی بد ترین جعلسازی کر کے تھل کے پانچ اضلاع بھکر، خوشاب ، میانوالی ،لیہ اور مظفر گڑھ کے دو تہائی رقبے ڈویلپمنٹ چارجز کے طور پر ہتھیا کر کس طرح غیر مقامی لوگوں کو دیئے گئے۔ اسی طرح راجن پوری کی دھندی اسٹیٹ میں جائیں یا پھر ریاست بہاولپور کے چولستان کو لے لیں ، جہاں آج بھی ناجائز الاٹمنٹوں اور زمینوں کی لوٹ مار اور بندر بانٹ کا ایسا طوفان آیا ہوا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ ان حالات میں پنجاب پر کون اعتماد کرے گا ؟ محروم خطے کے تمام لوگوں کا خیال ہے کہ تمام بیراج اور ڈیم رقبے ہتھیانے کیلئے بنائے جاتے ہیں ،لوگوں کو بھی سابقہ تجربات کی روشنی میں یہی خدشات لا حق ہیں ۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ سرائیکی صوبہ بنایا جائے بعد میں سرائیکی ڈیم پاکستان میں بسنے والی قوموں اور تمام صوبوں کی رضا مندی سے تعمیر ہو۔ آخر میں یہی عرض کروں گا کالا باغ ڈیم اس لئے نہیں بن رہا کہ یہ سرائیکی وسیب کا منصوبہ ہے اور پنجاب کے نام پر رُکا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا باغ ڈیم تمام قوموں اور تمام صوبوں کی مرضی سے بننا چاہئے لیکن سرائیکی وسیب اپنی ملکیت سے کسی بھی صورت دستبردار نہیں ہوگا ۔ کالا باغ ڈیم کے مسئلے پر سرائیکی وسیب کی معروضات پر غور کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ سرائیکی وسیب کا مطالبہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کے سلسلے میں اصل فریق سرائیکی ہے ، ڈیم سے متعلق تمام معاملات میں سرائیکی کو بحیثیت قوم اور بحیثیت اکائی شامل کیا جائے۔ ارسا میں سرائیکی وسیب کو نمائندگی دی جائے ۔ اس سلسلے میں دریاؤں کا محور سرائیکی وسیب کو یکسر نظر انداز کر کے سندھ کو ارسا میں دوہری نمائندگی دینا بے انصافی ہے۔ یہ آمر مشرف کا فیصلہ تھا ۔ سندھ طاس معاہدے کے نتیجے میں تمام بربادی سرائیکی وسیب کی ہوئی ۔ خطے کی پوری تہذیب مر رہی ہے اور جب سیلاب آتا ہے تو سب سے زیادہ تباہی بھی سرائیکی وسیب کی ہوتی ہے اور وسیب کا اب یہی مقدر رہ گیا ہے کہ سیلاب آئے تو ڈوب مرے اور سیلاب نہ آئے تو پیاس سے مرے۔ بھارت سے مذاکرات کے ذریعے سندھ طاس معاہدے پر نظر ثانی کرائی جائے اور خطے کی مرتی ہوئی تہذیب کو پانی دیا جائے۔ رقبوں کے پانی کیلئے سندھ اور سرائیکستان کا حصہ برابر مقرر کیا جائے اور جو فارمولا اپر پنجاب اور سندھ کیلئے فی ایکڑ کے حساب سے وضع کیا گیا ہے ، وہی فارمولا سرائیکستان کیلئے بھی ہونا چاہئے ۔ کالا باغ ڈیم کے سلسلے میں سرائیکی وسیب کو گارنٹی دی جائے کہ اس نتیجے میں ایک انچ زمین بھی باہر سے لائے گئے کسی آباد کار کو الاٹ نہیں ہو گی اور نہ ہی ڈیم متاثرین کے نام سے سرائیکی دھرتی ہڑپ کی جائیگی اور سرائیکی وسیب کی زمینوں کیلئے ریونیو بورڈ لاہور نہیں سرائیکی خطے میں ہو گا اور اس کے سربراہ و ممبران مقامی ہونگے ۔ سرائیکی وسیب کو تہذیبی و ثقافتی اعتبار سے بلا تاخیر وفاقی اکائی کا حق دیا جائے۔ ان اقدامات سے سرائیکی قوم ہمسایہ قوموں کو کالا باغ کی افادیت سے آگاہ کر کے آمادہ کر سکتی ہے اور کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے ۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں