کانگریس کی ووٹنگ سے بچنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی کو جنگ ختم ہونے کا تاثر دے دیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوگئی، جنگ بندی کے بعد سے دونوں ملکوں میں کوئی جھڑپ نہیں ہوئی، وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی اب ختم ہو چکی ہے ، اس لیے امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں۔
دوسری طرف امریکا کی ایران پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی جاری ہے، ٹرمپ انتظامیہ کی کانگریس سے منظوری لینے کی 60 دن کی مدت آج مکمل ہوگئی۔
علاوہ ازیں امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایران جنگ قانونی ڈیڈلائن کے باوجود بھی جاری رہ سکتی ہے ، ایران سے جنگ کب ختم ہوگی؟ اور کب کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہوگی؟ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کرے گا۔
سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگ میں وقفہ 60 دن کی قانونی مدت غیر مؤثر بنا دیتا ہے، جس کے تحت امریکا کو جنگ ختم کرنی یا کانگریس سے منظوری لینی ہوتی ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں ایران جنگ پر صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی ڈیموکریٹس کی چھٹی کوشش بھی ناکام ہوگئی، کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف کی قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد ہوگئی، قرارداد کا مقصد صدر کو ایران جنگ کے بعد امریکی افواج کو واپس بلانے کی ہدایت دینا تھا۔