سپریم کورٹ آف پاکستان نے باپ کو قتل کرنے والے ملزم بیٹے صفدر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
باپ کو قتل کرنے والے ملزم صفدر کی عمر قید کے خلاف اپیل پر جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
سپریم کورٹ نے صلح نامے کی بنیاد پر ملزم محمد صفدر کی اپیل منظور کر لی۔
دورانِ سماعت وکیلِ صفائی دل محمد نے کہا کہ کیس 2013ء کا ہے جبکہ ترمیمی ایکٹ 2017ء میں آیا، نئے ایکٹ کے بعد عدالت ملزم صفدر کو صلح کے باوجود سزا دے سکتی ہے، موجودہ کیس پر نئے ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا، کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے بھی موجود ہیں، قرآن پاک میں بھی رضا مندی کے عمل کو پسند کیا گیا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ باپ کے قاتل کو سزا دینا چاہتے تھے مگر قانون کو دیکھنا ہو گا، قانون کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ملزم کا صلح نامہ تسلیم کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 2013ء میں جلال پور کے رہائشی محمد صفدر نے زمین کے تنازع پر اپنے والد کو قتل کر دیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔