سپریم کورٹ آف پاکستان نے دہرے قتل کے 76 سالہ مجرم محمد ممتاز کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔
سپریم کورٹ نے 76 سالہ مجرم کے ضعیف العمر ہونے کی بنیاد پر سزا میں رعایت دی۔
عدالت نے کہا کہ قتل کا واقعہ کسی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا نتیجہ نہیں تھا، خونی تصادم کا آغاز گلی سے مویشی گزارنے کے معمولی تنازع پر ہوا تھا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ مجرم کی اہلیہ اور مقتولہ کے درمیان ہاتھا پائی جھگڑے کی بنیاد بنی، استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ ملزم نے بھینس چوری کے مقدمے کی رنجش میں قتل کا ارتکاب کیا۔
عدالت نے کہا کہ استغاثہ بھینس چوری کی مبینہ دشمنی کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکا، خالی خول برآمد نہ ہونے کی وجہ سے آلۂ قتل کی برآمدگی غیر اہم ہے۔
واضح رہے کہ واقعہ مارچ 2015ء میں سرگودھا کے علاقے ڈیرہ سودھی مری میں پیش آیا تھا، مجرم کی فائرنگ سے 2 خواتین جاں بحق اور 1 شخص زخمی ہوا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے 2019ء میں مجرم کو 2 بار سزائے موت کا حکم سنایا تھا جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے نومبر 2024ء میں سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔