ماہرین کے تبصرے اپنی جگہ مگر عام آدمی سمجھتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے ’دانے مُک‘ گئے ہیں وہی دانے جس کے پاس ہوں اس کے کملے بھی سیانے ہو جاتے ہیں۔ کسی زمانے میں ہمارے وزیر اعظم اور ان کے بڑے بھائی کے اتالیق ہمارے بزرگ عطا الحق قاسمی ہوتے تھے تب انہیں بتا دیا جاتا تھا کہ دونوں فریقین کہنا ویسے ہے جیسے ماہِ رمضان کا مہینہ،یا شبِ برات کی رات یا سنگِ مرمر کا پتھر،تاہم وہ کہہ بیٹھے ہیں اس لئے ازرہِ احترام سارے وزرا بھی یہی کہے جا رہے ہیں کہ ہمارا رابطہ دونوں فریقین سے ہے۔پھر جب امریکی صدر نے کہا کہ ہمارا ایران سے رابطہ ہے،ہمیں صلح کی نئی شرائط مل گئیں اس کے لئے ہمارے نائب صدر ،وزیرِ خارجہ اور ان کے معاونین کا اتنی دور جانا کچھ مناسب نہیں لگتا تب بھی ہماری طرح جن احباب کو ابھی تک تنخواہ یا پنشن نہیں ملی انہوں نے دیکھا ایوب خان کے زمانے میں امریکہ سے میکسی پاک( گندم کا نیا بیج)جو ملا تھا اس کا احترام اپنی جگہ مگروہ دانے امریکہ کے بھی ختم ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے جب شاہِ انگلستان سے نیو یارک کے میئرظہران ممدانی نےکوہِ نور ہیرے کے بارے میں سوال کیا توکچھ باخبروں نے اشارے کئے دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ صدر ٹرمپ کو احساس ہے کہ امریکہ کے معاشی حالات اچھے نہیں۔ اپنی ذات سے والہانہ پیار کرنے والے صدر ٹرمپ کو اگر تاج محل کے خالق شاہجہاں کے تخت ِ طاؤس کے بارے میں بتایا جائے تو ممکن ہے وہ کوہِ نور سے زیادہ سونے کے بنے ہیروں موتیوں سے مرصع اس تخت کو تلاش کرنے کا حکم دیتے،تب اس بات کا امکان ہے وہ ایران سے مذاکرات میں پندرھویں شرط کا بھی اضافہ کر دیتے کہ اس تخت کو بھی ہمیں پیش کرو،یہی نہیں اگر ظہران ممدانی ،ظہور انور ندیم یا مبشر زیدی مغل تاریخ کی یہ جھلک بھی دکھا دیتے کہ مغلیہ سلطنت کے بانی کا بیٹا ہمایوں(شاہ جہاں کا پردادا) جب اپنے پٹھان سالار شیر شاہ سوری سے شکست کھا کے بھاگا اور ایران میں پناہ لی تو شاہِ ایران کو کوہِ نور ہیرا بھی پیش کیا اورشیعیت بھی اختیار کی،تاہم یہی سونا چاندی ،ہیرے جواہرات تھے جن کی شہرت نے نادر شاہ کو دِلّی پر حملہ کرنے کی ترغیب دی اور یہ قصہ تو بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ محمد شاہ رنگیلا نے کوہِ نور اپنی پگڑی میں چھپا لیا تھا جس کا رازمغلوب بادشاہ کی کنیز نے فاش کیا تو نادر شاہ نے محمد شاہ کا سر اڑانے کی بجائے’دستار بدل بھائی‘ بننا پسند کیا،اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے ایک تخت نشیں میجر جنرل شفیق الرحمٰن نے شگفتہ انداز میں یہ قصہ لکھ دیا ہے ’تُزکِ نادری‘ میں۔ اگر کہیں صدر ٹرمپ حسبِ وعدہ پاکستان آ نکلے اور کہیں محترم افتخار عارف سے کہا کہ کوہِ نور ہیرے کے بارے میں شعر سناؤ تو وہ عالمانہ انداز میں بتائیں گے کہ یہ شعر میرا نہیں کراچی کے لالو کھیت میں رہنے والے ایک شاعر عارف شفیق کا ہے
غریبِ شہر تو فاقےسے مر گیا عارف
امیرِ شہر نے ہیرے سے خود کشی کر لی
ساتھ ہی وہ بتا سکتے ہیں کہ عالی مرتبت! ہندوستان میں گولکنڈہ کی کانوں سے یہ ہیرا دریافت ہوا تھا مگر اس کی وجہ سے جنگیں ہوئیں،پھر اسے جس نے بھی انگشتری میں جڑا یا تاج میں،اس کے گھر میں فساد ہوا۔
روزنامہ امروز اور جنگ میں صحافت کے سنہری دن بِتانے والے ہمارے سینئر ساتھی اسلم ملک نے آج ( چار مئی ) یاد دلایا ہے کہ سلطان فتح علی ٹیپو کی شہادت کا دن ہے جس کے کسانوں ،قیدیوں اور تعلیم کو ترسنے والے بچوں کے لئے اصلاحی اقدامات بہت سے علاقوں میں نافذ ہو جائیں توہمارے وزرائے تعلیم و زراعت و جیل خانہ جات سراسیمہ ہو جائیں۔ تاریخ ادبِ اردو پڑھانے والے اچھے استاد جب کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کے بارے میں پڑھاتے تھے تو اس بات پر چونکتے تھے کہ یہ کالج دس جولائی کو قائم ہوا تو لارڈ ولزلی نے کیوں فرمان جاری کیا کہ اس کا یومِ تاسیس چار مئی اٹھارہ سو لکھا جائے کہ ایک برس پہلے انہوں نے ہندوستان میں مزاحمت کی بڑی چٹان کو ہٹایا تھا۔ آپ میں سے جن احباب کو پڑھنے کا شوق ہے ،انہوں نے ’’وقائع منازلِ فرنگ‘‘ یا خواب نامہ ٹیپو سلطان مطبوعہ صورت میں دیکھی ہو گی یہ شیرِ میسور کی وفات سے پہلے کے چودہ برسوں کی ڈائری ہے کہ کیسے وہ ایک طرف فرانسیسیوں سے مراسلت کر رہا تھا تو دوسری طرف مرہٹوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ انگریز ہم سب کا مشترکہ دشمن ہے اسے حیدر علی یا فتح علی کا دشمن خیال نہ کرو۔ یاد داشت پر دستک دینے والی دو کتابوں اور ان کے مرتبین کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ان میں سے ایک ڈاکٹر غلام سرور مرحوم کی ہے جو میرٹھ میں پیدا ہوئے،جیالوجی یا علمِ طبقات الارض کے لیکچرار تھے میرے ساتھ گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں ،وہ امریکہ گئے اور وہاں ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا اور وہ ایک طرح سے زلزلہ پیما بن گئے’’سنگ رس‘‘ ان کا مجموعہ نظم ونثر ہے جو مقتدرہ قومی زبان نے شائع کیا،ایک امریکی خاتون سے شادی کی وہاں جا کے جو پہلا خط لکھا اس میں اس خاتون سےقربت کی ایسی تصویر تھی جسے دیکھ کے شرمائیں ’’یہود و ہنود‘‘۔ میں چاہتا تھا کہ وہ پاکستان میں آکر گیس اور پٹرولیم کی تلاش میں اپنے پیشہ ورانہ تجربے کو استعمال کرے مگر وہ کہتا تھا تمہارے ہاں جو منصبوں پر بیٹھے ہیں ان کی مٹھی گرم کئے بغیر(رؤف کلاسرا اسے چونچ گیلی کرنا کہتا ہے) ایسا ممکن نہیں،آخری برسوں میں اس نے لکھا کہ امریکی خاتون پینسٹھ برس کی ہو جائے تووہ اور اس کے والد گرامی ناقابلِ برداشت ہو جاتے ہیں پھر سترہ مارچ دوہزار بیس کو ان کی بیگم کیتھرین کی ای میل ملی کہ غلام سرور اس دنیا میں نہیں رہے۔ دوسری کتاب جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈیز سنٹر سے پانچ عشرے وابستہ رہنے والے ڈاکٹرسید جعفر احمد کی ہے جو سید سبطِ حسن کے اس ہفت روزہ لیل و نہار کا اٹھارہ ستاون کا جنگِ آزادی نمبر ہے جسے پہلے ایوبی آمریت نے نشانہ بنایا پھر ضیا الحق کا مارشل لا ڈکار گیا،تاہم سب جانتے ہیں کہ لیل و نہار کا فتویٰ نمبر بھی ڈاکٹر جعفر احمد شائع کر دیں تو ہماری فکری تاریخ کے کئی باب کھل جائینگے۔