• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امن کا فائدہ، ہرمز معاہدے کےبعد تیل اور گیس کی قیمتیں گر گئیں، مہنگائی کم

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) امن کا فائدہ، ہرمز معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی،مہنگائی میں نرمی، نیوز پرنٹ پر دباؤ؛ اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی ، سرمایہ کار مہنگائی کا دباؤ جلد کم ہونے کی شرط لگانا شروع۔ تفصیلات کے مطابق عالمی معیشت کو پیر کے روز کئی مہینوں میں سب سے بڑا مثبت جھٹکا ملا، جب واشنگٹن اور تہران نے ایک مفاہمتی یادداشت (ڈرافٹ ایم او یو) کا اعلان کیا، جس کا مقصد اس تنازع کو ختم کرنا تھا جس نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو مفلوج کر دیا تھا۔ مارکیٹوں نے فوری طور پر اس طرح ردِعمل دیا جیسے دنیا کی سب سے اہم توانائی سپلائی میں رکاوٹ بالآخر ختم ہونے کے قریب ہو۔ تاجر، صنعت کار، ٹرانسپورٹ کمپنیاں، کسان اور مرکزی بینکوں نے تیزی سے ترقی، افراطِ زر اور اشیائے صرف کی لاگت سے متعلق توقعات کو دوبارہ ترتیب دینا شروع کر دیا۔ تیل کی قیمتیں گر گئیں، قدرتی گیس کی قیمتوں میں کمی آئی، اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی، اور سرمایہ کاروں نے شرط لگانا شروع کر دی کہ خلیج میں 100 دن سے زائد جاری رہنے والی رکاوٹوں سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ جلد کم ہونا شروع ہو سکتا ہے۔ تاہم اگرچہ توانائی کی منڈیوں نے فوری ردِعمل ظاہر کیا، دیگر شعبے،جن میں کھاد، غذائی اجناس اور نیوز پرنٹ شامل ہیں،سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ان فوائد سے بتدریج مستفید ہوں گے۔ سب سے تیز ردِعمل تیل کی منڈیوں میں دیکھنے میں آیا، جہاں جغرافیائی سیاسی خطرے کا بڑا پریمیم تقریباً راتوں رات ختم ہو گیا۔مارکیٹوں نے مؤثر طور پر اس بڑے خطراتی پریمیم کا ایک بڑا حصہ ختم کر دیا جو اس وقت جمع ہوا تھا جب عالمی سطح پر تجارت ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ممکنہ رکاوٹ کے خطرے سے دوچار نظر آ رہا تھا۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئی۔ کم توانائی قیمتوں کے کم زیرِ بحث فوائد میں سے ایک عالمی نیوز پرنٹ انڈسٹری ہو سکتی ہے۔ تیل، کھاد یا گندم کے برعکس، نیوز پرنٹ کسی مائع عالمی ایکسچینج پر تجارت نہیں کرتا اور اس لیے اس کی روزانہ کی کوئی وسیع پیمانے پر نقل ہونے والی مارکیٹ قیمت موجود نہیں ہوتی۔ نتیجتاً، قیمتوں میں تبدیلیاں عموماً زیادہ سست اور کم نمایاں ہوتی ہیں۔ سرمایہ کاروں نے بڑی جارحیت کے ساتھ ایئرلائنز، ٹرانسپورٹ کمپنیوں، صنعت کاروں اور صارفین سے متعلق شعبوں میں سرمایہ کاری شروع کر دی جو کم ایندھن کی لاگت اور کم افراطِ زر کے دباؤ سے براہِ راست فائدہ اٹھاتے ہیں۔ توانائی کمپنیاں ان چند شعبوں میں شامل تھیں جو پیچھے رہ گئیں کیونکہ خام تیل کی کم قیمتیں کم آمدنی اور کم منافع کے حاشیے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یورپی منڈیوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ امریکی حکام کے مطابق، یہ معاہدہ پہلے ہی الیکٹرانک طور پر منظور کیا جا چکا ہے اور توقع ہےکہ اسے باضابطہ طور پر بھی مکمل کیا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید