قارئین !اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ایران پر مسلط کی گئی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے پوری دنیا کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور غیر یقینی کی جاری صورتحال انسانی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہونے کا عندیہ دے رہی ہے۔ یہ خطرات صرف جنگ سے ہونے والی انسانی تباہ کاریوں کے نہیں بلکہ دنیا میں بھوک، مہنگائی، بیروزگاری کے بڑھنے، روزمرہ استعمال کی اشیاء، ادویات اور خوراک و اجناس کی قلت پیدا ہونے کے خطرات بھی منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادتوں نے بے شک ان خطرات کو ٹالنے کیلئے ہی امریکہ اور ایران کو اپنی ثالثی اور میزبانی میں مذاکرات کی میز پر بٹھایا۔ ہمارے اس کردار کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے اور ہماری قیادتوں کیلئے اقوام عالم میں داد و تحسین کے ڈونگرے برس رہے ہیں۔ اس کے باوجود خلیجی جنگ کی پیدا کردہ معاشی ناہمواریوں کی صورتحال کے ہماری معیشت پر اثرات مرتب ہونا فطری امر تھا تاہم ہماری قیادتوں کے فہم و تدبر سے ملک میں توانائی کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود ایران کی اجازت سے پیٹرول کے ٹینکر پاکستان کی بندرگاہوں تک پہنچتے رہے ہیں جس پر حکومتی مشینری کی جانب سے واضح عندیہ بھی دیا جاتا رہا کہ ہمارے پاس پیٹرول کے اتنے عرصے تک کیلئے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں جنگ کے براہ راست متاثرہ ممالک میں اس وقت بھی پیٹرول کی سخت قلت ہے اور ان کی اقتصادی ترقی کا گراف بھی نیچے جا رہا ہے۔ اس کے باوجود متاثرہ ممالک میں پیٹرول کے نرخوں میں توازن قائم ہے اور آج بھی اتنے زیادہ نرخ نہیں بڑھے جتنے ہماری حکومت نے خلیجی جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں بڑھا دیئے تھے۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ خلیجی جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا ہے، درآمدی بل میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس تمام بوجھ کا واحد ہدف صرف عام آدمی ہی کیوں بنتا ہے؟ بدقسمتی سے پاکستان میں پیٹرولیم نرخوں میں اضافہ صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس اضافے سے ہر شے مہنگی ہو جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کرائے بڑھتے ہیں، سبزی، پھل، آٹا، چینی، دالیں، دودھ، گوشت، ادویات اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز کی قیمت اڑان بھرنے لگتی ہے۔ صنعتکار پیداواری لاگت بڑھنے کا جواز بنا کر نرخ بڑھا دیتے ہیں اور یوں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایک ماہ کے دوران3 بار پیٹرولیم نرخ بڑھائے جا چکے ہیں۔ اس وقت عوام مہنگائی کے علاوہ غربت و افلاس کے بوجھ تلے بھی دبے ہوئے ہیں جن کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کے پاس قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی متبادل حکمت عملی موجود نہیں؟
کیا ریاستی اخراجات میں کمی، غیر ترقیاتی مصارف کا خاتمہ، شاہانہ طرز حکمرانی میں سادگی، سرکاری اداروں کے نقصانات پر قابو، ٹیکس چوری کی روک تھام، مراعات یافتہ طبقات پر مناسب بوجھ ڈالنا اور غیر ضروری درآمدات محدود کرنا ممکن نہیں؟ اگر یہ سب اقدامات کئے بغیر ہر بحران کا حل صرف قیمتوں میں اضافہ ہی نظر آئے تو عوام اسے ناانصافی ہی سمجھیں گے۔بدقسمتی سے پاکستان میں قربانی ہمیشہ تنخواہ دار طبقے، مزدور، کسان، ریٹائرڈ افراد اور چھوٹے کاروباری طبقے سے لی جاتی ہے، جبکہ اشرافیہ کے مفادات محفوظ رہتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ معاشی بوجھ انصاف کے ساتھ تقسیم ہو۔ اشرافیہ اپنی مراعات کم کرے، حکومتی شاہ خرچیاں ختم ہوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور عام آدمی کو جینے کا حق دیا جائے۔ اس سے ہی ریاست کو مضبوط اور عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملک کے غریب و متوسط طبقے کو اپنی چھت کے حصول کیلئے وزیر اعظم اپنا گھر اسکیم کا با قاعدہ اجرا کر دیا ہے، اسکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک کا قرض آسان شرائط پر دستیاب ہو گا، پہلے سال 50 ہزار گھروں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، آئندہ 4برسوں میں ہدف 5 لاکھ گھروں کا ہوگا، 10 مرلے تک گھر تعمیر کئے جاسکیں گے اور اس کیلئے فنانسنگ کا حجم 2.3کھرب روپے ہوگا،قرضے کی واپسی کی مدت 20 سال ہو گی پہلے10سال مارک اپ 5فیصد اور اگلے 10سال مارک اپ مارکیٹ کی شرح کے مطابق ہوگا۔وزیر اعظم کی جانب سے اپنا گھر اسکیم کا اجرا بلا شبہ ایک اہم اور بروقت اقدام ہے جسکا بنیادی مقصد ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو اپنی چھت فراہم کرنا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں لاکھوں خاندان آج بھی کرائے کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں یا کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہیں، ایسی کسی بھی اسکیم کی اہمیت سے انکارممکن نہیں۔تاہم اس اقدام کی کامیابی کا انحصار محض اعلانات پر نہیں بلکہ اس کے شفاف، مؤثر اور مستقل نفاذ پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا غریب طبقہ حقیقی معنوں میں اس اسکیم سے مستفید ہو سکے گا۔ ایک کروڑ روپے تک کے قرض کی سہولت بظاہر پرکشش ہے مگر موجودہ مہنگائی اور آمدنی کی غیر یقینی صورتحال میں کیا ایک عام شہری 20سالہ قرض کی ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں ہے؟ ۔ وزیر اعظم اپنا گھر اسکیم ایک امید کی کرن ضرور ہے مگر ا سے حقیقت کا روپ دینے کیلئے مضبوط حکمت عملی، شفافیت اور تسلسل ناگزیر ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس منصوبے کے اعداد و شمار پر نظر رکھے بلکہ اس کے سماجی اثرات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے تا کہ یہ اسکیم واقعی عوامی فلاح کا ذریعہ بن سکے، نہ کہ محض ایک اور اعلان بن کر رہ جائے۔