• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خبر گرم ہے کہ لاہور ڈویژن کا اولین ماسٹر پلان2026-50ءتیاری کے بعد جلد منظوری کیلئے پیش کر دیا جائیگا۔ یوں ایک طویل ماضی جسکے دوران ڈویلپرز، اہلکاروں کی من مانیاں جاری رہیں، لیکن عوام مہنگی دفتری منظوریوں اور تعمیرات کے ہاتھوں عذاب ناک کیفیت کا سامنا کرتے رہے، وہ دور ختم ہونے کو ہے۔ ماضی میں لاہور جیسے عظیم شہر کی ماسٹر پلان سے محرومی نے شہریوں، ماحولیات اور شہری تمدن کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے جسکی اصلاح پر اب اربوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ ماضی میں لاہور کی بے ہنگم ترقی کو مؤثر اور جدید لیکن قابل عمل ماسٹر پلان سے بہتر بنایا جا سکتا تھا۔

افسوس کہ اب تک کا لاہور طاقت ور ڈویلپرز کے سامنے بے بس ثابت ہوا ہے ۔ اس حرص زدہ روش کو وقتاً فوقتاً سرکاری اہلکاروں کی اشیرباد اور صوابدید بھی قوت پہنچاتی رہی۔ یوں پائیدار بہترترقی کے تمام خواب اب تک ادھورے چلے آ رہے ہیں، کیوں کہ تیز ترین اور جدید شہری ترقی کو سیاسی ناپختگی اور انتظامی بے عملی نے بالعموم ناکارہ بنائے رکھا۔ لاہور شہر کے جامع ماسٹر پلان سے طویل محرومی اب گل کھلا رہی ہے۔ چنانچہ موٹرکاروں، فیکٹریوں سے نکلنے والی آلودہ گیسوں، گرین زوننگ میں کمی اور ٹریفک کے غیرمربوط نظام نے شہر کو نت نئے عفریت کا شکار کیا ہوا ہے۔ چنانچہ حالیہ سالوں میں اسموگ کی شدت نے لاہور کو دنیا کے بدترین شہروں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ شہر میں سے گزرنے والے اَن گنت نالوں کا پانی جو دریائے راوی میں بغیر صفائی کے داخل کیا جا رہا ہے، وہ لاہور کے زیرزمین صاف پانی کے ذخائر پر علیحدہ ستم ڈھا رہا ہے۔ لاہور کی ناقص پلاننگ گرمی کے تھپیڑوں اور زیادہ بارشوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہو چکی ہے۔ کسی مؤثر پلان اور شہری پالیسی کی غیرموجودگی میں سرکاری، غیرسرکاری افراد کی چاندی ہے۔ گھاٹے میں صرف لاہوری عوام ہیں جن کو کوڑیوں میں خریدی گئی زمین کے پلاٹ جمع پونجی کے عوض مل رہے ہیں۔ مبادا نئی پالیسی اور ماسٹر پلان ضابطوں میں جکڑ دے، ڈویلپرز نے لاہور کی زرعی زمینوں کو نگلنا شروع کر دیا ہے۔ افسوس کہ اس عبوری دور میں سرپرستی کے تحت ہائوسنگ سوسائٹیز بڑی تیزی سے نمودار ہو رہی ہیں تاکہ مجوزہ، پیش آمدہ ماسٹر پلان کے اندر قانونی اور استثنائی رعایتیں حاصل کر سکیں۔ اب تک تمام عبوری منصوبہ بندیوں میں پرائیویٹ کمرشل اور ہائوسنگ سرگرمیوں کو خصوصاً رعایت حاصل رہی، لیکن افسوس شدید ٹریفک کے مؤثر کنٹرول اور پھیلائو کیلئےجامع بندوبست نہ ہو سکا۔ لاہور اور نواح کی تقریباً 2کروڑ آبادی جو اپنی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں کے ساتھ اندرون لاہور ہوائی کثافتیں پھیلاتی رہتی ہے، اس وقت اسموگ اور بیماریوں کا باعث بن چکی ہے۔ بالخصوص شمالی لاہور کی آبادیوں میں گندے پانی کی نکاسی وبال جان بنی ہوئی ہے۔ ازکار رفتہ سیوریج سسٹم کی وجہ سے پرانے لاہور کی بیشتر آبادیاں اور شاہرات زیرآب رہتی ہیں۔ شہر میں کارپوریشن، ایل-ڈی-اے اور اب روڈا (RUDA) نیز سی بی ڈی (CBD) وغیرہ کے اداروں کی متشابہ (Overlapping) سرگرمیوں کی وجہ سے تقسیم کار متاثر ہو رہی ہے۔

جامع اُصولوں کی حامل ایک ایسی قابل عمل گائیڈلائن کی ضرورت ہے جو پائیدار ترقی، شہری معیشت اور بہترین طرزِ زندگی کی ضمانت مہیا کرے۔ یہ ایسی مقدس دستاویزات ہونی چاہئے جو زمینوں کے منصفانہ استعمال، شہری تعمیرات، ٹرانسپورٹ کی سہولیات اور ماحولیاتی تحفظ بارے موجودہ اور آئندہ سالوں کیلئے ابہام سے پاک ہو۔ جس میں مذکورہر مختصر یا طویل مدتی پروگرام شہر کی نمائندہ آبادی، ماحولیاتی حقائق اور معاشی اعداد و شمار سے متصادم نہ ہو۔ جس میں ایسی تعمیرات کی حوصلہ افزائی موجود ہو، جو قابل تجدید توانائی، ماحول دوست تعمیرات اور قدرتی آفات کا مقابلہ کر سکیں۔ موجودہ صوبائی حکومت نے پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی حوصلہ شکنی کیلئے بہت سارے اقدامات کئے ہیں۔ شہر میں برقی گاڑیوں کا فروغ، مارکیٹوں سے تجاوزات کا خاتمہ، نئی پلاننگ میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے لاہور کے شمالی علاقوں تک ماحول دوست ٹرانسپورٹ ازقسم میٹروبس وغیرہ کو فروغ دیا جائے۔ اس وقت لاہور میں کم از کم دس لاکھ خاندان کرائےکے ایک کمرہ گھروں میں گزارہ کر رہے ہیں، نئے ماسٹر پلان میں 2050 تک بے گھر خاندانوں کو تین اور پانچ مرلہ کے گھروں کی تعمیرکیلئے منصوبہ بندی شامل کی جائے۔ پرائیویٹ ڈویلپرز کو پابند کیا جائے کہ وہ لاہور پلان علاقے کے اندر تین اور پانچ مرلہ کے پلاٹوں، گھروں کو فروغ دیں۔ ماسٹر پلان میں ایسے زمینی استعمال (Landuse) علاقوں کی باقاعدہ نشاندہی کی جائے، جہاں بے گھر خاندانوں کی آبادکاری ہو سکے گی۔ بلاشبہ نیا ماسٹر پلان جدت کا شاہکار ہو گا۔ یہ جدت محض مہنگی سوسائٹیز اور عالی شان وسیع وِلاز، شاہرات سے ہی ممکن نہیں، اس کیلئے آبادیٔ لاہور کے اس کثیر طبقہ کو بھی رہائشی سہولتوں کی فراہمی ازبس ضروری ہے۔ حکومت پنجاب نے ریٹائرڈ ملازمین کیلئے 2004ء میں رہائشی اسکیم کا اجرا کیا تھا۔ ہزاروں ملازمین نے اس کی ممبرشپ کے ذریعے ابتدائی اخراجات سرکاری فائونڈیشن کو جمع کروا دیئے ہیں، لیکن شنید ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ریٹائرڈ ملازمین اپنے حق سے محروم ہیں۔ حیرت ہے پرائیویٹ ہائوسنگ کیلئے لاہور میں ہزاروں ایکڑ اراضی مخصوص کی جا رہی ہے، لیکن جمع شدہ سرمائے سے لاہور میں اقدامات نہیں کئے جا رہے۔ مجوزہ ماسٹر پلان میں ان صوبائی ملازمین کیلئے بھی گنجائش پیدا کی جائے۔

تازہ ترین