• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا جواب قابلِ قبول نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ابھی ابھی ایران کے نام نہاد "نمائندوں" کا جواب پڑھا ہے، مجھے یہ پسند نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول! اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ۔

اس سے پہلے گزشتہ ہفتے ریکارڈ کیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے ان کا یورینیم حاصل کریں گے، ہوسکتا ہے ایران میں دوبارہ حملے کرنے پڑیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں 70 فیصد اہداف کو نشانہ بناچکا، چند اہداف باقی ہیں، ضرورت پڑی تو مزید دو ہفتے ایران پر حملے کرسکتے ہیں۔

ایک اور بیان میں کہا کہ ایران امریکا اور باقی دنیا کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے، تاخیر، تاخیر اور تاخیر، یہ کھیل ایران 47 سال سے کھیل رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا جواب ثالث پاکستان کے زریعے واشنگٹن کو موصول ہو گیا ہے، ایران نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجویز کا تفصیلی جواب بھجوا دیا۔

امریکی اخبار کے مطابق ایران نے یورینیم افزودگی عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ایران نے امریکا کا 20 سال تک یورینیم افزدوہ نہ کرنے کا مطالبہ مستردکردیا ہے جبکہ ایران کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز مرحلہ وار کھولنے کی تجویز ہے۔

ایران نے امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کی جوہری معاملات پر آئندہ 30 روز میں مذاکرات کی تجویز ہے، ایران نے جوہری تنصیبات ختم کرنے کا امریکی مطالبہ بھی مسترد کردیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید