امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس میں 4 شہریوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ’میمفس سیف ٹاسک فورس‘ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹاسک فورس نے شہریوں کو ہراساں کیا اور گرفتاریوں کی ویڈیو بنانے والوں کو دھمکیاں دیں۔
مقدمے کے مطابق ٹاسک فورس میں ریاستی اور وفاقی اداروں کے اہلکار شامل ہیں جنہوں نے کارروائیوں کے دوران شہریوں کو ڈرایا دھمکایا اور بعض مواقع پر گرفتاری کی دھکیاں بھی دیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹاسک فورس کے اہلکاروں نے ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو پولیس کارروائیوں کی ویڈیوز بنا رہے تھے حالانکہ یہ عمل امریکی آئین کے تحت قانونی اور شہری حق سمجھا جاتا ہے۔
مقدمے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میمفس میں اب تک تقریباً 1 لاکھ 2 ہزار گاڑیوں کو روک کر انہیں ہراساں کیا جا چکا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں اکثریت سیاہ فام آبادی کی ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر جانبدار اور پیشہ ورانہ انداز میں عوام کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
امریکن سول لبرٹیز یونین کی وکیل اسکارلٹ کم نے کہا ہے کہ پولیس کارروائیوں کی ریکارڈنگ شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے اور میمفس کے رہائشی بھی اسی حق کا استعمال کر رہے تھے۔