• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم ایس ناز

پیٹو میاں کا اصلی نام تو جنید تھا لیکن امی اُن کو پیار سے جو جی پکارتی تھیں، باقی گھر والے اسے پیٹو میاں کہتے تھے۔ پیٹو بھی ایسے کہ کھانا کھا کر بھی شور مچاتے تھے۔ ’’ میں بھوکا ہوں ۔‘‘ امی اس کے آگے مختلف چیزیں رکھ دیتیں، مگر وہ ضد کر کے کہتے۔ ’’میں تو چینی کا پراٹھا کھاؤں گا۔‘‘ کھا کھا کے پیٹو میاں تو پھول کر کپّا ہو چکے تھے۔

اکثر ان کی جیب میں چوری کے بسکٹ ہوتے۔ کبھی قُلفی کھوئے ملائی والی کھا رہے ہوتے۔ قریب سے آم پاپڑ بیچنے والا گزر رہا ہوتا، تو اسے بھی آواز دے کر ٹھہرا لیتے اور پھر سب کچھ کھا پی کے بھی باورچی خانے میں جا کے کہتے ’’ امی، بڑی سخت بھوک لگ رہی ہے۔

بس چینی کا ایک پراٹھا پکا دیجئے نا۔‘‘ مزے کی بات تو یہ تھی کہ چینی کا پراٹھا بھی چینی کے ساتھ کھاتے۔ پیٹو میاں کی عمر تیرہ سال تھی۔ وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ گھر سے اسکول جاتے اور ہفتے میں دو ایک بارا سکول جانے کی بجائے راستے ہی میں نو دو گیارہ ہوجاتے۔اپنے دوست بلو اور کاکا کو ساتھ لیتے اور سیدھے باغ میں، غلیل سے چڑیوں کا شکار کرنے پہنچ جاتے۔

بیچاری چڑیوں کو بھون بھون کر کھانے میں انہیں خدا جانے کیا لطف آتا تھا۔ جب کوئی انہیں پیٹو میاں کہہ کر بلاتا، اس سے ناراض ہوجاتے، بعض اوقات لڑنے جھگڑنے پر اتر آتے، پھر خود ہی روتے ہوئے امی کے پاس چلے آتے اور کہتے کہ، ’’سب مجھے پیٹو کہہ کر چھیڑتے ہیں۔‘‘ امی، پیار سے اس کامنہ چومنے لگتیں اور کہتیں۔ ’’بڑے خراب ہیں وہ لوگ، جو میرے بیٹے کو پیٹو چھیڑتے ہیں۔ ‘‘

زیادہ کھانے کی وجہ سے پیٹو میاں کو کلاس میں بیٹھے بیٹھے نیند آجاتی، وہ خرّاٹے لینے لگتے تو سارے لڑکے ہنسنے لگتے۔ ماسٹر جی کی بھی ہنسی نکل جاتی۔ گھر آکر وہ امی، ابا سے کہتے کہ اسکول کے لڑکے ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ایک دن امی نے کہا کہ تم دن بہ دن موٹے ہوتے جارہے ہو، کھیلا کودا کرو، ٹھیک ہوجاؤ گے۔ ان کے یہ بات سمجھ میں تو آگئی، مگر وہ پیٹو کے پیٹو رہے۔ ایک اتوار، پیٹو میاں کے ابّا نے گھر میں اپنے دوستوں کو کھانے پر بلایا۔

وہ ہفتے کی رات ہی مٹھائی لے آئے تھے، جسے باورچی خانے کی الماری میں رکھ دیا تھا۔ پیٹو میاں کو اس کا علم ہو گیا۔ رات کے وقت جب سب میٹھی نیند سوئے ہوئے تھے، پیٹو میاں آرام سے بستر سے اٹھے اور سیدھے باورچی خانے میں پہنچ گئے، بتی بھی نہ جلائی کہ کہیں چوری نہ پکڑی جائے، جلدی جلدی پہلے برفی پر ہاتھ صاف کیے، پھر لڈو اور بالوشاہی پر۔ اسی دوران برفی کا ٹکڑا سلیپ پر گر گیا، جلدی میں ان کے ہاتھ برفی کی جگہ صابن کا ایک ٹکڑا ہاتھ لگ گیا۔

پیٹو میاں اسے برفی سمجھ کر نگل گئے۔ جب انہیں تسلی ہوگئی کہ کلو بھر مٹھائی چٹ ہوگئی ہے، تو چپکے سے دوبارہ بستر پر آکر لیٹ گئے۔ ابھی آنکھ نہ لگی تھی کہ ان کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ پیٹ میں کچھ درد محسوس ہونے لگا اور پھر اُلٹی ہوگئی، گھر کے سب لوگ جاگ گئے۔ ابّا باورچی خانے سے ہاضمے کا چورن لینے گئے، تو مٹھائی کا ڈبہ خالی پڑا تھا۔ وہ ساری بات سمجھ گئے۔ پیٹو میاں کے پاس آکر پوچھنے لگے، توقرار کر لیا کہ مٹھائی انہوں نے کھائی ہے۔

پیٹو میاں ہاضمے کے چورن سے ٹھیک نہ ہوسکے، رات بھر ان کی طبیعت خراب رہی۔ صبح ہوتے ہی ڈاکٹر کو بلایا گیا، تو پتہ چلا کہ وہ اندھیرے میں مٹھائی کے ساتھ صابن بھی کھا گئے ہیں۔ پیٹو میاں نے یہ سنا تو زور زور سے چلانا شروع کردیا۔ ’’مجھے بچاؤ، میں کبھی چور ی کر کے مٹھائی نہیں کھاؤں گا۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اللہ سے دعا مانگی۔ انہیں چند روز میں آرام آگیا، اور انہوں نے چوری سے توبہ کر لی۔

ایک روز پیٹو میاں دوستوں کے ساتھ چڑیوں کے شکار کو گئے، تو ایک مداری کا بھالو رسی تڑوا کر باغ میں پہنچ گیا۔ پیٹو میاں کے کچھ دوست تو بھاگ گئے اور باقی درخت پر چڑھ گئے۔ پیٹو میاں کی شامت آگئی۔ وہ درخت پر چڑھ نہ سکے۔ ان سے دوڑا بھی نہیں جارہا تھا۔ وہ ہانپتے کانپتے ایک جھاڑی کے پیچھے چھپ گئے۔

اتنے میں لوگوں کا شور سنائی دیا۔ ’’دوڑو، پکڑو، جانے نہ پائے۔‘‘ پھر بندوق چلنے کی آواز آئی۔ پیٹو میاں نے جھاڑی کی اوٹ سے جھانکا، تو بھالو زخمی ہو کر زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا۔ ’’جان بچی، سو لاکھوں پائے‘‘ پیٹو میاں نے اللہ کا پھر شکر ادا کیا۔

گھر آکر نماز پڑھی اور دعائیں کرنے لگے، ’’یا مولا، مجھ پر رحم کر‘‘ امی، پیٹو میاں کی زبانی یہ دعا سن کر ٹھہر گئیں اور بولیں, ’’تم اگر وعدہ کرو کہ کم کھایا کروگے، تو تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی۔‘‘پیٹو میاں نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ سے بدپرہیزی نہیں کریں گے۔‘‘

وہ دن اور آج کا دن، پیٹو میاں اسکول سے کبھی نہیں بھاگے اور نہ ہی چڑیوں کا شکار کرنے جاتے ہیں، کم کھاتے، کم بولتے ہیں، صبح سویرے اٹھتے ہیں، ورزش کرتے اور نماز پڑھتے ہیں۔ دھیرے دھیرے اُن کا وزن کم ہونے لگا ہے اب وہ اپنے آپ کو ہلکا محسوس کرتے ہیں۔