• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اریج جواد

بچو! پرانے زمانے کی بات ہے کسی ملک میں ایک بادشاہ تھا جس کی ایک پیاری سی بیٹی شہزادی سارہ تھی وہ ابھی بہت چھوٹی تھی۔ بادشاہ اور ملکہ اس سے بہت پیار کرتے تھے اور اس کی ہر بات مانتے تھے۔ سارہ کو رنگ برنگے پھول بہت پسند تھے۔ اس کا شوق دیکھ کر بادشاہ نےکئی اقسام کے پھولوں کے پودے مختلف ممالک سے منگوا کر اپنے محل کے باغ میں لگوائے تھے۔

ایک دن سارہ باغ سے بہت سے خوبصورت پھول توڑ کر لائی اور انہیں اپنے کمرے کی میز پر سجا کر سوگئی۔ صبح جب وہ سو کر اٹھی تو اس نے دیکھا کہ تمام پھول مرجھا گئے۔ یہ دیکھ کر اسے بہت افسوس ہوا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

وہ روتے ہوئے ملکہ اور بادشاہ کے پاس گئی اور انہیں یہ بات بتائی ملکہ نے سارہ کو سمجھایا کہ " پھول توڑنا اچھی بات نہیں ہوتی " لیکن سارہ کو یہ بات پسند نہیں آئی وہ روتی رہی تو بادشاہ نے اسے بہلانے کے لئے کہا کہ " جاؤ اپنی سہیلی مریم کے ساتھ جاکر کھیلو " شہزادی سارہ اپنی سہیلی مریم کے پاس گئی اوراُسے بھی پھولوں کے بارے میں بتایا۔

اس کی باتیں مریم کی امی بھی سن رہی تھیں ۔انہوں نے شہزادی سے کہا کہ " اگر آپ نمک والے پانی میں پھولوں کو رکھیں گی تو ہھول دیر تک تروتازہ رہیں گے "۔سارہ یہ بات سن کر بہت خوش ہوئی اور اس نے دوبارہ اپنے باغ سے بہت سے پھول توڑکر انہیں گلدان میں نمک ملا پانی ڈال سجادئیے۔ دوسرے دن صبح اٹھ کر جب اس نے پھولوں کو دیکھا تو وہ تروتازہ تھے، شہزادی سارہ خوش ہوگئی لیکن اگلے دن پھول مرجھانے لگے۔ شہزادی دوبارہ اداس ہوگئی۔

وہ پھر روتی ہوئی بادشاہ کے پاس گئی اور دوبارہ پھولوں کے مرجھانے کی شکایت کی ۔ بادشاہ اپنی پیاری بیٹی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہوگیا لیکن پھر اس نے اُسے سے سمجھایا کہ " بیٹی پھول توڑنا اچھی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے پھولوں کے ذریعے باغوں کو خوبصورت بنایا ہے، اس لئے ہمیں ان کی خوبصورتی کو باغوں میں ہی دیکھ کر خوش ہونا چاہئیے " بادشاہ نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے اپنے کمرے میں پھول سجانا پسند ہیں تو کاغذ اور کپڑے سے بھی بہت خوبصورت پھول بنوائے جاسکتے ہیں۔

شہزادی کو یہ تجویز بہت پسند آئی، اس کے بعد شہزادی سارہ کا کمرہ ہمیشہ مصنوعی پھولوں سے سجا رہتا جو کبھی مرجھاتے بھی نہیں تھے۔ وہ تازہ پھولوں کو دیکھنے باغ میں جاتی اور انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوتی۔