• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمیر بہادر

بچو! یہ تو آپ جانتے ہیں کہ سورج سے ہمیں صرف روشنی اور گرمی ہی نہیں ملتی بلکہ ہم اس سے بجلی بھی بنا سکتے ہیں۔ گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز تو لگے دیکھے ہی ہوں گے۔ اس کے ذریعے سورج کی روشنی کو بجلی میں بدل دیا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اسے کس نے ایجاد کیا تھا؟

سولر پینل کی ایجاد کا تاریخی سفر 1839ء’’ فوٹوولٹک‘‘کی دریافت سے شروع ہوا تھا۔ اس کی ایجاد ایک طویل سائنسی سفر کا نتیجہ ہے، جس میں مختلف سائنسدانوں نے اہم کردار ادا کیا، البتہ، ’’ایڈمنڈ بیکرل‘‘ کو اس کا اصل موجد مانا جاتا ہے، جبکہ چارلس فرِٹس نے پہلا عملی سولر سیل بنایا تھا۔

فرانسیسی طبیعیات ایڈمنڈ بیکرل نے 19 سال کی عمر میں مختلف تجربات کرتے ہوئے اسے دریافت کیا تھا، اگرچہ ان کے ابتدائی تجربات بہت معمولی تھے، لیکن یہ ہی سولر ٹیکنالوجی کی بنیاد بنے۔

1883ء میں امریکی موجد چارلس فرِٹس نے سیلینیم پر سونے کی ایک انتہائی پتلی تہہ چڑھا کر پہلا فعال سولر سیل تیار کیا تھا، اس کی کارکردگی بہت کم تھی تقریباً 1 سے 2 فی صد، لیکن یہ عملی طور پر بجلی پیدا کرنے کی پہلی کوشش تھی۔

1905ء میں البرٹ آئن سٹائن نے فوٹو الیکٹرک اثر کی ریاضیاتی وضاحت پیش کی، جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ روشنی کس طرح مادے سے الیکٹران کو خارج کرتی ہے، اس تحقیق پر انہیں نوبل انعام بھی ملا۔

1954ءمیں تحقیقی ادارے’ بیل لیبز‘کے سائنسدانوں، ڈیرل چیپین ، کیلون فُلر، اور جیرالڈ پیئرسن نے پہلا جس کی کار کردگی تقریباََ 6 فی صد تھی سلیکون پر مبنی فوٹو وولٹک سیل تیار کیا تھا۔