صدر عالم گوہر
ایک دن میرے چھوٹے بیٹے مشتاق نے ضدکرنے لگا کہ’’ ابو کہانی سنائیے، ابو کہانی سنائیے۔ آ ج ہم آپ سے کہانی سنیں گے‘‘۔ میں نے کہا،’’بیٹا مجھے کہانی نہیں آتی۔ میں کیسے کہانی سناؤں‘‘۔ لیکن مشتاق، اشفاق اور جنید کے ساتھ دوسرے بچوں نے بھی کہانی سنانے کی ضد کرنے لگے۔ آخر میں نے کہا،’’ میرے ابو نے یعنی تمہارے دادا نے مجھے کچھ کہانیاں سنائی تھیں۔
آؤ میں ان کی ہی سنائی کہانیوں میں سے ایک کہانی سناتا ہوں۔یہ ایک گونوجھا کی کہانی ہے۔ گونوجھا بہت ہوشیار، حاضر جواب اور بذلہ سنج تھا۔ ظرافت اس کی رگ رگ میں سمائی ہوئی تھی۔ وہ خود بھی خوش رہتا تھا اور اپنی حرکتوں اور باتوں سے لوگوں کو بھی ہنساتا رہتا تھا۔ بیربل، ملا نصیر الدین کا نام تم سب نے سنا توہوگا۔
گونوجھا بھی اسی طرح کا آدمی تھا۔ وہ دو بھائی تھے۔ ایک گونوجھا اور دوسرا بھونوجھا۔ ایک دن بھونوجھا نے اپنے بھائی سے کہا،’’ اب میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔ مجھے علیحدہ کردو۔ آج بٹوارہ ہو جانا چاہئے۔ ‘‘ گونوجھا نے اسے بہت سمجھایا کہ ایسا نہ کرو لیکن وہ نہیں مانا تو گونوجھا نے جو چیزیں دو دو تھیں بانٹ دیں، لیکن بھینس اور کمبل ایک تھا، ان کا بٹوارہ کیسے ہو۔
بھونوجھا نے کہا،’’ میں پنچایت بلاؤں گا ، اس میں جو فیصلہ ہوگا وہ ہم دونوں مان لیں گے‘‘۔ گونوجھا نے کہا ،’’ٹھیک ہے۔‘‘ بھونو جھا نے گاؤں کے کچھ لوگوں کو کہہ سن کر یا کچھ دے لے کر اپنی طرف ملا لیا اور فیصلہ اپنے حق میں کروانے کی پوری تدبیر کر لی۔ ایک دن گاؤں کے لوگ جمع ہوئے ،پنچایت شروع ہوئی۔
بھونوجھا نےجن لوگوں کو اپنی حمایت میں بولنے کے لیے کہا تھا ان لوگوں نے فیصلہ سنایا۔’’گونوجھا اور بھونوجھا تم دونوں کا معاملہ ایک بھینس اور ایک کمبل کا ہے، کیونکہ یہ ایک ایک ہیں اور دعویدار تم دونوں ہو۔ مسئلہ بہت الجھا ہوا اور مشکل ہے۔ اگر بھینس کو بیچ سے کاٹ دیا جائے تو بھینس مر جائے گی دونوں کے کام نہیں آئے گی۔
اسی طرح کمبل کو بیچ سے کاٹ دیا جائے تو بہت چھوٹا ہوجائے گا۔ تم دونوں میں سے کوئی نہیں اُڑھ سکے گا۔ اس لیے ہم نے بہت سوچنے سمجھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ بھینس کا اگلا حصہ گونوجھا کو دیا جاتا ہے اور پچھلا حصہ بھونوجھا کو۔ اسی طرح کمبل دن میں گونوجھا کو دیا جاتا ہے اور رات میں بھونوجھا کو۔
ہم پنچوں کا فیصلہ آخری ہے، اسے دونوں بھائیوں کو ماننا پڑےگا‘‘۔ گونوجھا سمجھ گیا کہ یہ بھونوجھا کی چال ہے۔ اس نے پنچوں کو کچھ لے دے کر اپنے حق میں فیصلہ کروا لیا ہے۔ خیر پنچوں کا فیصلہ تھا ماننا تو تھا ہی۔ اب چونکہ گونوجھا کے حصے میں بھینس کا اگلا حصہ تھا، اس لئے بھینس کو کھلانا پلانا اور نہلانا گونوجھا کی ذمہ داری تھی جبکہ پچھلے حصے میں بھینس کا تھن ہوتا ہے۔ اس لیے وہ شام کو بالٹی لے کر بھینس کا دودھ نکالتا اور خوب دودھ بی کر خوش ہوتا تھا۔ بھینس کا گوبر جلانے کے کام میں لاتا۔
ادھر گونوجھا بہت مایوس اور اداس رہتا تھا کہ بھینس کو میں کھلاتا پلاتا اور نہلاتا ہوں اور بھونوجھا مزے سے دودھ دہی کھاتا ہے۔ لیکن گونو جھا کر بھی کیا سکتا تھا، ہاتھ مل کر رہ جاتا۔ یہی حال کمبل کا تھا۔ گونوجھا دن بھر کمبل کو دھوپ میں سکھاتا اور رات کو جب ٹھنڈ لگتی اور کمبل اوڑھنے کی ضرورت ہوتی تو بھونوجھا کمبل لے جاتا۔
وہ سوچتا کمبل کی دیکھ بھال میں کرتا ہوں، اور جب رات کو اوڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے تو بھونوجھا لے جاتا ہے۔ اسی گھٹن کڑھن اور کف افسوس ملنے میں گونوجھا کے دن رات گزر رہے تھے کہ اچانک اسے ایک ترکیب سوجھی اور اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ گونو جھا کی عقلمندی نے اپنا کمال دکھایا ، دوسرے روز گونو جھا نے بھینس کو روز کی طرح کھلایا پلایا، نہلایا اور دروازے پر لاکر باندھ دیا۔
جب شام ہوئی اور بھونو جھا بالٹی لے کر بھینس کا دودھ نکال رہا تھا تو گونوجھا ایک ڈنڈا لے کر بھینس کے منہ پر مارنے لگا۔ بھینس نے دولتی چلائی۔ بالٹی کا دودھ گر گیا اور بھونوجھا کو بھی چوٹیں آئیں۔ بھونوجھا غصے میں لال پیلا ہو گیا۔
اس نے کہا، ’’تم نے یہ کیا کیا، بالٹی کا سارا دودھ گر گیا۔‘‘ گونوجھا بولا، دیکھو ’’بھینس کا اگلا حصہ میرا ہے۔ میں اپنے اگلے حصے میں کچھ بھی کروں اس سے تم کو کیا مطلب۔ تم اپنے پچھلے حصے میں کچھ بھی کرو اس سے مجھے مطلب نہیں۔ اسی طرح کمبل کے بارے میں بھی گونوجھا کو ایک تدبیر سوجھی۔
اس نے مغرب سے پہلے کمبل کو پانی میں اچھی طرح بھگو یا اور تہہ لگا کر رکھ دیا۔ جب رات میں بھونوجھا کمبل لینے کے لیے آیا تو بھیگا ہوا دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا۔ غصے میں اس نے کہا، ’’تم نے شام میں کمبل کو کیوں بھگو دیا۔ اب میں اسے کیسے اوڑھوں گا؟‘‘ گونوجھا نے کہا، ’’میں کیا کروں؟‘‘ یہ تمہارا مسئلہ ہے تم کیسے اوڑھو گے۔ کمبل کو دن میں سکھاؤں یا بھگوؤں یہ میری مرضی۔ رات میں تم کچھ کرو یہ تمہاری مرضی۔
نہ میں تمھارے کام میں دخل دوں گا اور نہ میرے کام میں تم دخل دو۔ اب بھونوجھا کی سمجھ میں بات آ گئی کہ گونوجھا سے عقل کے معاملے میں جیتنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ پھر بھینس اور کمبل کا ٹھیک سے بٹوارہ ہوا۔ بھینس کا دودھ ایک دن گونوجھا لیتا اور ایک دن بھونوجھا۔ اسی طرح کمبل ایک رات گونوجھا اوڑھتا اور ایک رات بھونوجھا۔