• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین! آئی ایم ایف نے پاکستان پر مزید ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں لاگت کے مطابق رکھنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ سرکاری اداروں کی نجکاری اور اصلاحات تیز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ سماجی تحفظ، تعلیم اور صحت پر اخراجات بڑھانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1اعشاریہ4 ارب ڈالر کی موسمیاتی تبدیلی فیسیلٹی آر ایس ایف کے تحت 22کروڑ ڈالر منظور کئے گئے ہیں۔نیز آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1اعشاریہ32ارب ڈالر کی منظوری بھی دیدی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق معاشی اصلاحات کے ذریعے پاکستان طویل المدت معاشی گروتھ حاصل کر سکتا ہے۔آئی ایم ایف کی طرف سے بہت سے معاملات میں حکومت کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین ایک قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں کو پاکستان میں مہنگائی میں کمی نظر آتی ہے۔جبکہ عام آدمی کا عرصہ حیات مہنگائی میں اضافہ در اضافہ ہونے سے تنگ ہو چکا ہے۔گزشتہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف کی مشاورت نہیں بلکہ اس کی ڈکٹیشن پر تیار کیا گیا تھا، جس میں ٹیکسز کی بھرمار تھی۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں بھی آئی ایم ایف کی مداخلت واضح نظر آرہی ہے۔ہم جو عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لئے جاتے ہیں، اس حوالے سے انہیں مشاورت اور تجاویز کا حق تو دیا جا سکتا ہے، مگر ڈکٹیشن کا نہیں۔ہو یہ رہا ہے کہ انہی کی ڈکٹیشن پر ٹیکسز لگائے جاتے ہیں۔ ویسے آئی ایم ایف نہ بھی کہے تب بھی حکومت بجلی کی قیمتیں صرف لاگت کے مطابق نہیں بلکہ اس سے زیادہ ہی رکھتی ہے۔ٹیکس نیٹ میں اضافہ حکومت کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے، مگر اب تو آئی ایم ایف کا دباؤ بھی شامل ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ سے باہر آخر کون ہے؟ سوئی، ماچس تک پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر ایسے ایسے ٹیکس عائد ہیں کہ متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کی مکمل وضاحت کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا، یوں ٹیکس پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔وزیر خزانہ اورنگزیب کے مطابق پاکستان کی معیشت مستحکم اورترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچنے والے ہیں، جبکہ نیب نے 3ٹریلین روپے کی ریکوری کر کے دی ہے۔ اس کے باوجود کرپشن کا ناسور معیشت کو بری طرح چاٹ رہا ہے۔ اصل ضرورت ٹیکس نیٹ اور ٹیکسوں میں اضافے سے زیادہ اداروں میں اصلاحات کی ہے۔

ایران جنگ کی وجہ سے پوری دنیا توانائی بحران سے متاثر ہوئی ہے، لیکن تقریباً تمام ممالک نے عوام کو اس معاشی دباؤ سے بچانے کیلئے ٹیکس ریلیف سمیت مختلف اقدامات کے ذریعہ بچانے کی کوشش کی ہے ،لیکن دوسری طرف ہماری حکومت نہ صرف عالمی توانائی کی قیمتوں کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کر رہی، بلکہ اس نے تیل پر ٹیکس کم کرنے کے بجائے اس میں مسلسل اضافے کی پالیسی اپنا رکھی ہے، ایسے ملک میں جہاں عام آدمی کی یومیہ آمدن ہی ہزار،12 سو روپے ہے، تیل سوا 4 سو روپے لیٹر تک پہنچا دیا گیا ہے۔ جس نے لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بالخصوص بقا کی جنگ لڑنے کی سطح پر آگئے ہیں، تاجر تنظیمیں مسلسل حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرا رہی ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے حکومت کچھ سننے کو تیار نہیں، وہ آئی ایم ایف کی پالیسی پر چلنے کو کامیابی سمجھ رہی ہے۔ مہنگی بجلی سے بچنے کیلئے عوام سولر کی طرف جارہے تھے، حکومت نے اس شعبے کو بھی ہدف بنالیا، پہلے نیٹ میٹرنگ کے ذریعہ ملنے والی سستی بجلی کی پالیسی تبدیل کر کے سولرائزیشن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، اب گزشتہ روز سولر پلیٹس پر کسٹم ڈیوٹی میں 30 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ۔ یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے، جب پوری دنیا میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے حکومتیں سولر اور ونڈ پاور کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔لیکن ہماری حکومت اس کے الٹ سمت جا رہی ہے، حالانکہ خود وزرا یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ سولرائزیشن نے ہی ملک کو حالیہ توانائی بحران سے بچایا ہے، ورنہ لوڈ شیڈنگ کا جن بے قابو ہوجاتا، اسی طرح حکومت کھاد کمپنیوں کو گیس پر اربوں روپے کی سبسڈی دے رہی ہے، لیکن گیس کمپنیوں نے بھی ایران جنگ کے نام پر قیمتوں میں اضافے کالامتناہی سلسلہ شروع کر دیا ہے، گزشتہ روز کھاد کی قیمت میں مزید 400 روپے بوری اضافہ کر دیا گیا ہے، اور اب نئی قیمت 15633روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ سونا ڈی اے پی کی قیمت میں مجموعی اضافہ 1624روپے فی بوری تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت ایک طرف خود رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1200 ارب روپے سے زائد وصول کر چکی ہے، تو دوسری جانب کھاد فیکٹریوں کو بھی کھلی چھوٹ دی جارہی ہے کہ وہ قیمت میں اضافہ کرتی جائیں، صنعتی شعبہ پہلے سے بحران کا شکار ہے، ایسے میں اگر کھاد مہنگی کرنے سے زراعت بھی مشکل میں پڑگئی، تو مزید بیروزگاری اور مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ حکومت کو عوام پر بوجھ بڑھانے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں، تیل پر لیوی اور ٹیکس اس وقت قیمت کے نصف تک پہنچ گئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اگر حکومت اپنا منافع نہ لے، تو تیل200 روپے لیٹر کے قریب فروخت ہو سکتا ہے، اسی طرح سولر پلیٹوں پر کسٹم ڈیوٹی اور کھاد قیمت میں اضافہ بھی فوری واپس لیا جانا چاہئے۔

تازہ ترین