• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

28 ویں ترمیم میں بنیادی مسائل ہونگے، ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، رانا ثناء

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ جن مسائل پر 28 ویں ترمیم آسکتی ہے وہ بنیادی نوعیت کے ہی ہوں گے.

رانا ثناء اللّٰہ نے جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان سے متعلق 28 ویں ترمیم میں کوئی شق نہیں ہے، آئینی عہدوں سے متعلق کچھ لوگ ہیں جو صدارتی نظام کو بہتر سمجھتے ہیں لیکن اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام ہی پاکستان کے لیے بہتر ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر الیکشن لڑنے سے متعلق جب آپ سمجھتے ہیں کہ کم سے کم عمر 25 سال ہونی چاہیے تو ووٹ  دینا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر برائے سیاسی امور نے بتایا کہ پیپلز پارٹی ہم سے ناراض نہیں بلاول بھٹو نے درست کہا ہے کہ ان کے بغیر ترمیم نہیں ہوسکتی۔

اُنہوں نے کہا کہ 27 ترامیم ہو چکی ہیں اب جو بھی ترمیم ہوگی وہ 28 ویں ہی ہوگی اس پر تو کوئی بحث نہیں ہے اور انتظار بھی 28 ویں ہی کا ہے البتہ جن مسائل پر یہ ترمیم آ سکتی ہے وہ بنیادی نوعیت کے ہی ہوں گے یہ ضرور ممکن ہے کہ میں اُس سے متعلق جس طرح سوچ رہا ہوں کوئی دوسرا نہیں سوچ رہا ہو اور اس لئے اس پر بات ہوتی رہتی ہے۔ 

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ این ایف سی، آبادی ، پانی کی ترسیل کے مسائل اور کئی معاملات زیر غور رہتے ہیں اور ان پر مختلف زاویوں سے گفتگو ہوتی رہتی ہے اور ان تمام چیزوں میں کوئی ایک بھی چیز ایسی نہیں ہے کہ اگر اتفاق رائے پیدا ہو جائے تو اس پر بغیر ترمیم بنائے عملدرآمد ممکن ہو۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ جب بھی جس چیز پر بھی اتفاق رائے ہوگا تو مطلب یہی ہوگا کہ 28 ویں ترمیم ہی آئے گی اور یہ بات بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بعض چیزوں پر جلد فیصلہ لینا ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید