• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی وزیراعظم نے دائیں بازو کے 11 مشتعل مظاہرین پر برطانیہ آنے پر پابندی کا اشارہ دیدیا

تصویر بشکریہ برطانوی میڈیا
تصویر بشکریہ برطانوی میڈیا

برطانوی وزیراعظم سرکیئر اسٹارمر نے ٹومی رابنسن کے مارچ کیلئے گیارہ دائیں بازو کے مشتعل مظاہرین پر برطانیہ آنے پر پابندی کا اشارہ دیدیا۔

دوسری طرف میٹ پولیس منظم پولیسنگ آپریشن کیلئے تیار ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق وسطی لندن میں یونائیٹ دی کنگڈم کی ریلی میں 1لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔

اس موقع پر ایک الگ مارچ کے ساتھ تصادم کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے‘ ہزاروں اہلکاروں کو ریلی میں سیکیورٹی انتظامات کیلئے سڑکوں پر تعینات کیا جائے گا‘ گھڑ سوار دستے‘ ڈرونز‘ ہیلی کاپٹرز‘ بکتربند گاڑیوں اور مسلح دستوں کو مختلف ڈیوٹیاں تفویض کی جائیں گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانوی ہوم سیکرٹری کے پاس کسی بھی شخص کی برطانیہ میں داخلے یا قیام کی اجازت کو منسوخ تک کرنے کا اختیار موجود ہے‘ صور تحال کے مطابق اختیارات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دائیں بازو کی جن شخصیات پر پابندی عائد کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ان میں پولینڈ کے سیاستدان ڈومینک ٹارزنسکی، بیلجیئم کے سیاست دان اور مبصر فلپ ڈیونٹر، اسلام مخالف اثر رکھنے والی ویلنٹینا گومز، امریکی مبصر جوئی مینارینو، ہسپانوی شخصیت ایڈا لُچ، ڈچ اینٹی امیگریشن کارکن ایوا ولارڈنگ اور یو ایس پوڈبرو کاسٹ ڈونبرو کاسٹ شامل ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید