صدر ٹرمپ کا دورۂ چین اور اس میں دونوں عظیم ترین عالمی طاقتوں کے درمیان حریفانہ کشمکش کے خاتمے اور مفاہمانہ تعاون کے فروغ کے امکانات کا ابھرنا، پچھلے کچھ عرصے کے دوران مسلسل رونما ہونے والے ان غیرمتوقع واقعات میں ایک اوراضافہ ہے جو حیرت انگیز طور پر پاکستان کے حق میں بہتری اور روشن مواقع کا سبب بن سکتے ہیں۔گزشتہ مئی کی پاک بھارت جنگ میں محیر العقول فتح سے پہلے پاکستان کیلئے چین کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی خوشگوار تعلقات رکھنا خاصا دشوار تھا۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت صدر ٹرمپ کیلئے کہیں زیادہ لائق ترجیح تھا۔ لیکن چینی ہتھیاروں کے بے مثال جنگی مہارت کے استعمال کے ذریعے پاکستان کے ہاتھوں بھارت کا رسواکن شکست کھانا اور ایران امریکہ مذاکرات میں اسلام آباد کا قائدانہ کردار جہاں پاکستان کے ساتھ ان کے رویے میں بڑی مثبت تبدیلی کا سبب بنا غالباً وہیں اُس چین کے ساتھ بھی محاذ آرائی کے بجائے دوستی انہیں امریکہ کے بہتر مفاد میں نظر آنے لگی جسکے خلاف چینی برآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کرکے انہوں نے معاشی جنگ شروع کر رکھی تھی۔ یوں اب چین کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی خوشگوار اور مستحکم تعلقات رکھنے میں پاکستان کی راہ میں کوئی مشکل حائل نہیں رہی۔ عالمی حالات جس طرح فضا کو پاکستان کے حق میں ہموار کرتے چلے جارہے ہیں، اس ہفتے اس کا ایک اور اہم مظہر بھارت کے سابق آرمی چیف منوج نروانے کے اس بیان کی شکل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مودی حکومت کو پاکستان کے ساتھ جنگ کے منصوبے بنانے کے بجائے، امن اور دوستی کی راہ پر پیش قدمی کا مشورہ دیا ہے۔یہی نہیں بلکہ اکھنڈ بھارت کی پرچارک آر ایس ایس کے مرکزی قائدین بھی مودی سرکار کو برملا پاکستان سے دوستی کے مشورے دے رہے ہیں اور اٹل بہاری واجپائی کی طرح پاکستان سے جنگ کے بجائے پرُامن تعلقات قائم کرنے کو بھارت کی ضرورت بتارہے ہیں۔ عالمی منظر نامے پر فضا کا پاکستان کے حق میں اس طرح سازگار ہوتے چلے جانا یقینا ًاس قادر مطلق کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے جس نے ملک کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کو باہمی تعاون سے جنگ میں کھلی فتح اور عالمی امن کیلئے سفارت کاری کے میدان میں تاریخ ساز کردارادا کرنے کی سمجھ بوجھ اور اہلیت عطا فرمائی ۔ تاہم گھریلو محاذ پر ابھی کم و بیش سب کچھ ویسا ہی ہے جو عشروں سے چلا آرہا ہے۔کرپشن جو قومی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور جسے خود وزیر اعظم بھی بارہا تسلیم کرچکے ہیں،اس میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ حالیہ دنوں ہی میں ون کانسٹیٹیوشن ایوینوکے حوالے سے منظر عام پر آنے والے حقائق نے واضح کیا ہے کہ تمام بااثر طبقات کرپشن میں بری طرح ملوث ہیں۔ نسلوں کو برباد کردینے والا منشیات کا تباہ کن کاروبار بھی دھڑلے سے ملک میں جاری ہے، پنکی انمول کی گرفتاری سے اس کی بہت سی پرتیں اتر گئی ہیں۔ لوٹی گئی قومی دولت کے ملک سے باہر جانے میں بھی کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ خود انکشاف فرماچکے ہیں کہ پچھلے تین برسوں میں ملک سے سو ارب ڈالر غیرقانونی طور پر باہر گئے ۔ پچھلے برسوں میں پاناما، پینڈورا اور سوئس لیکس میں ان سینکڑوں پاکستانیوں کے نام سامنے آئے تھے جنہوں نے مجموعی طور پر کئی سو ارب ڈالر کی لوٹی گئی قومی دولت بیرونی بینکوں میں منتقل کی یا اس سے جائیدادیں بنائیں۔دعوے کے گئے تھے کہ ان سب کا احتساب ہوگا اور سینکڑوں ارب ڈالر واپس لائے جائیں گے، لیکن پھر مکمل خاموشی اختیار کرلی گئی۔ کرپشن اور ہر طرح کے جرائم عام ہونے کی بہت بڑی وجہ ہمارا عدالتی نظام بھی ہے ۔ ایک عام پاکستانی اس نظام سے انصاف ملنے کی امید کم ہی رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ دور میں اس میں بہتری کے بجائے انحطاط نمایاں ہے۔مقدمات کے فیصلوں میں تاخیری حربے ختم نہیں کیے جاسکے۔ عدالتوں پر دباؤ کی وجہ سے سیاسی مقدمات کی سماعت میں ٹال مٹول سے ملزم مظلوم بن رہے ہیں ۔ معاشی بہتری کے دعوے تو بہت ہیں لیکن عوام کا حال مسلسل ابتر ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ مہنگائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ بھارت میں چار سال بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تین روپے کا اضافہ ہوا ہے تو وہاں اپوزیشن اور عوام احتجاج کررہے ہیں لیکن ہمارے ہاں سینکڑوں روپے کے اضافے روز کا معمول ہیں۔ مرکز اور صوبوں میں وزراء کی فوج ظفر موج کم کرکے حکومتی اخراجات کی بے لگامی کے خاتمے کی کوئی فکر کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے ٹیکس سسٹم کو سادہ اور آسان بنانا لازمی ہے لیکن اس سمت میں بھی کوئی ایسی پیش رفت نظر نہیں آتی جس نے سرمایہ کاروں کی شکایتیں دور کردی ہوں۔ معیشت کے فروغ اور عالمی منڈیوں میں ہماری برآمدات کو مسابقت کے لائق بنانے کیلئے بجلی کا خطے کے دوسرے ملکوں کی طرح سستا ہونا ضروری ہے لیکن اب تک آئی پی پیز کے عفریت سے قوم کو چھٹکارا دلانے میں مکمل کامیابی نہیں ہوئی۔ نیزاربوں روپے کی بجلی چوری آج بھی جاری ہے اور بعض سرکاری اداروں سمیت صارفین کی ایک بڑی تعداد بلوں کی ادائیگی نہیں کرتی۔ لہٰذا جو لوگ بل ادا کرتے ہیں بجلی چوروں کے بلوں کا بوجھ بھی وہی اٹھا رہے ہیں۔ لائن لاسز ختم کرنے کی باتیں بھی عشروں سے ہو رہی ہیں لیکن صورت حال میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی واقع نہیںہوئی۔پاکستان نے الحمدللہ اسلحہ سازی اور جنگی مہارت کے میدان میں تو اپنا لوہا پوری دنیا سے منوالیا ہے لیکن گھر کو اندر سے ٹھیک کرکے معاشی خود کفالت کی منزل تک پہنچے بغیر عالمی سطح پر حاصل ہونے والا یہ ممتاز مقام زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا ۔ سوویت یونین کے خاتمے سے یہ حقیقت پوری طرح عیاںہے۔ لہٰذا تمام مذکورہ بالا حوالوں سے گھر کو اندر سے ٹھیک کرنا اب ہماری سیاسی و عسکری قیادت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے ۔ اس سمت میں جلد از جلدمؤثر اور تیزرفتار اقدامات کاسلسلہ ہماری قومی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کیلئے لازمی ہے۔