• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی سینیٹر کی بھارتی طلبہ اور حیدرآباد کے ’ویزا مندر‘ پر سخت تنقید

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

امریکی ریاست میسوری سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر ایرک شمٹ نے امریکی ویزا نظام، بھارتی طلبہ اور حیدرآباد کے مشہور چِلکور بالاجی مندر المعروف ’ویزا مندر‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سینیٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد پیغامات میں کہا ہے کہ ایچ-1 بی، ایل-1، ایف-1 اور او پی ٹی جیسے پروگرام امریکی شہریوں کی ملازمتیں متاثر کر رہے ہیں اور مقامی تنخواہوں کو کم کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑی ٹیک کمپنیاں غیر ملکی ورکرز کو ترجیح دے کر امریکی گریجویٹس کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

ایرک شمٹ نے چلکور بالاجی مندر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتی شہری امریکی ورک ویزا کے حصول کے لیے اس مندر میں دعائیں کرتے ہیں، امریکی کارکنوں کو ایسے نظام کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے جو مکمل طور پر مخصوص گروہوں کے حق میں ہو چکا ہے۔

ایرک شمٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارتی طلبہ اور ویزا ہولڈرز ایک دوسرے کے ساتھ امریکی ویزا انٹرویو کے خفیہ سوالات شیئر کرتے ہیں جبکہ غیر ملکی طلبہ کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سہولتیں دی جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی شہر حیدرآباد کا چلکور بالاجی مندر بھارت میں ’ویزا مندر‘ کے نام سے مشہور ہے جہاں ہر سال ہزاروں طلبہ اور آئی ٹی پروفیشنلز امریکی ویزا کی کامیابی کے لیے حاضری دیتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا میں شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق امریکا کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایچ-1 بی ویزوں میں بھارتی شہریوں کا حصہ تقریباً 70 سے 80 فیصد تک ہوتا ہے جبکہ چین دوسرے نمبر پر ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید