وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں جدید فلم سٹی بنانے کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا سے لے کر ٹی وی ٹاک شوز تک ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ کچھ لوگوں نے اس فیصلے کو پاکستان کی ثقافت، معیشت اور نوجوان نسل کیلئے امید کی کرن قرار دیا جبکہ کچھ حلقے اسکی شدید مخالفت کرتے دکھائی دئیے۔ سوال یہ ہے کہ آخر فلم سٹی کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ کیا واقعی فلم، موسیقی، تھیٹر اور ثقافت کسی قوم کو تباہ کر دیتے ہیں یا پھر حقیقت اس کے برعکس ہے؟دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو قومیں اپنی ثقافت، زبان، فلم، موسیقی اور آرٹ کو مضبوط کرتی ہیں، وہ صرف معاشی طاقت ہی نہیں بنتیں بلکہ دنیا کے ذہنوں پر بھی حکومت کرتی ہیں۔ آج بھارت کی فلم انڈسٹری بالی ووڈ صرف فلمیں نہیں بناتی بلکہ وہ ہندوستان کی نام نہاد ”سافٹ پاور“ کا سب سے بڑا ہتھیار بھی ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں اب بھی کچھ لوگ فلم، ڈرامہ اور موسیقی کو صرف”فحاشی “ کے چشمے سے دیکھتے ہیں، جبکہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام آباد سے لے کر بیجنگ ،استنبول، تہران، ممبئی، سیول اور ہالی ووڈ تک دنیا اپنی تہذیب کو ثقافت کے ذریعے ہی زندہ رکھتی ہے۔ اگر فلم انڈسٹری صرف بے حیائی پھیلاتی تو ایران جیسا مذہبی ملک اپنی فلم انڈسٹری کو دنیا بھر میں کیوں پروموٹ کرتا؟ ایرانی فلم ساز محدود وسائل کے باوجود اپنی تہذیب، اپنے خاندانی نظام، اپنی زبان اور اپنے سماجی مسائل کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ مغرب بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔دوسری طرف بھارت نے فلم کو مکمل صنعت بنا دیا ہے۔ بالی ووڈ آج کھربوں روپے کی معیشت بن چکا ہے۔ ممبئی کی فلم انڈسٹری صرف اداکار پیدا نہیں کرتی بلکہ لاکھوں لوگوں کو روزگاربھی دیتی ہے۔پاکستان میں بھی ایک وقت تھا جب لاہور کو”مشرق کا پیرس“ کہا جاتا تھا۔رائل پارک، مال روڈ،ایبٹ روڈ کی رونقیں، فلم اسٹوڈیوز کی بھرمار، ادیبوں، شاعروں، موسیقاروں اور اداکاروں کی محفلیں پاکستان کی ثقافتی شناخت تھیں۔پھر ایسا کیا ہوا کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری زوال کا شکار ہو گئی؟اس سوال کا جواب صرف”فلموں کی خرابی“نہیں بلکہ ہماری مجموعی سماجی، سیاسی اور فکری پالیسیوں میں چھپا ہے۔ ضیاءدور میں اسلامائزیشن کے نام پر ثقافتی سرگرمیوں کو مشکوک بنا دیا گیا۔ تھیٹر، موسیقی، فلم اور فنونِ لطیفہ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ معاشرے میں ایک عجیب تضاد پیدا ہوا۔ ہم نہ مکمل مذہبی ریاست بن سکے اور نہ جدید دنیا کے ساتھ چل سکے۔ جو قومیں اپنے شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کو کھو دیتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتی ہیں۔ یہی پاکستان کے ساتھ ہوا۔ آج ہمارے ثقافتی میلے بھی اپنی اصل روح کھو چکے ہیں۔ نہ وہ رنگ رہے، نہ وہ لوک موسیقی، نہ وہ داستان گوئی، نہ وہ خاندانی تفریح۔اس خلاکو پھر غیر ملکی ثقافت نے بھر دیا۔آج پاکستانی نوجوان ترکیہ، کوریا، بھارت اور مغربی دنیا کا مواد دیکھ رہا ہے کیونکہ مقامی سطح پر معیاری اور جدید تفریحی صنعت موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے نوجوان کسی نہ کسی قسم کا مواد دیکھیں گے ہی، تو پھر کیوں نہ وہ پاکستانی ثقافت، پاکستانی زبان، پاکستانی تاریخ اور پاکستانی ہیروز کو دیکھیں؟یہی وہ نکتہ ہے جسے فلم سٹی کے مخالفین سمجھنے سے قاصر ہیں۔ فلم سٹی صرف اداکاروں کیلئے عمارت نہیں بلکہ یہ ایک مکمل اکنامک زون ہوتا ہے۔ وہاں فلم سازی، اینیمیشن، ڈیجیٹل میڈیا، ڈاکیومنٹریز، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، ٹیکنالوجی، گرافکس، موسیقی، تھیٹر اور سیاحت کے دروازے کھلتے ہیں۔ دنیا بھر میں فلم انڈسٹریاں معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔جنوبی کوریا کی مثال سامنے ہے۔ آج ”کے ڈرامہ“ اور”کے پاپ“ پوری دنیا میں نوجوانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ سیاحت بڑھ رہی ہے۔ معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہو رہا ہے۔ترکیہ نے تاریخی ڈراموں کے ذریعے اپنی عالمی شناخت بنائی۔ ”ارطغرل“ اور دوسرے ترک ڈراموں نے دنیا بھر میں ترکیہ کا مثبت امیج بنایا۔ ترک سیاحت کو فائدہ ہوا، زبان اور ثقافت کو فروغ ملا۔بھارت نے بھی یہی کیا۔ وہاں فلم صرف تفریح نہیں بلکہ سفارتکاری، سرمایہ کاری اور نفسیاتی جنگ کا ہتھیار ہے۔ چاہے حقیقت کچھ بھی ہو مگر دنیا کے ذہنوں میں بھارت کی تصویر بڑی حد تک بالی ووڈ نے بنائی ہے۔اس کے برعکس پاکستان کا عالمی امیج اکثر دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کے گرد گھومتا رہا کیونکہ ہم نے اپنی کہانی دنیا کو سنائی ہی نہیں۔اگر پاکستان کے پاس معیاری فلم انڈسٹری ہوتی تو ہم اپنی تاریخ، صوفی روایت، شمالی علاقہ جات، سندھی، بلوچی، پنجابی، پشتون اور سرائیکی ثقافت، موسیقی اور اپنی مہمان نوازی دنیا کے سامنے پیش کر سکتے تھے۔ ہم اپنی تہذیب پر عالمی معیار کی فلمیں بنا سکتے تھے۔لیکن یہاں المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی فلم یا ثقافت کی بات ہوتی ہے، کچھ حلقے فوراً اسے مذہب کے خلاف قرار دینا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے خوبصورتی، شاعری، حسنِ صوت اور تہذیب کی کبھی مخالفت نہیں کی۔ اصل مسئلہ فحاشی، بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ ہے، اور یہ خرابی صرف فلموں میں نہیں بلکہ سیاست، کاروبار، بیوروکریسی اور پورے معاشرے میں بھی ہو سکتی ہے۔ اگر فلم انڈسٹری کو مناسب قوانین، سنسرشپ اور قومی اقدار کے ساتھ فروغ دیا جائے تو یہ معاشرے کیلئے مثبت طاقت بن سکتی ہے اورپنجاب فلم سٹی اسی سوچ کی ابتدا ہو سکتی ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے کام کرے تو یہاں جدید فلم اکیڈمیاں، اسکرپٹ رائٹنگ انسٹیٹیوٹ، اینیمیشن سینٹرز، ساونڈ اسٹوڈیوز اور ڈیجیٹل میڈیا حب قائم کیے جا سکتے ہیں۔ ثقافت انسان کو برداشت، مکالمہ اور خوبصورتی کا احساس دیتی ہے۔اس لیے پنجاب فلم سٹی کی مخالفت کرنے والوں کو جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ سوچ اپنانا ہوگی۔ اگر پنجاب فلم سٹی واقعی میرٹ، وژن اور سنجیدہ منصوبہ بندی کے ساتھ بنائی گئی تو یہ پاکستان کی ثقافتی بحالی کی بنیاد بن سکتی ہے۔