• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں دہائیوں سے قائم سیاسی تصورات، مذہبی اتحاد اور روایتی سفارتی بندھن تیزی سے اپنی معنویت کھو رہے ہیں۔ وہ خطہ جو کبھی عرب قوم پرستی، اسلامی یکجہتی اور نظریاتی وابستگیوں کے گرد گھومتا تھا، اب معاشی مفادات، جدید ٹیکنالوجی، توانائی کی سلامتی، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکورٹی اور دفاعی شراکت داریوں کی بنیاد پر نئے اتحاد تشکیل دے رہا ہے۔ اس نئی حقیقت نے نہ صرف خطے کی جغرافیائی سیاست کو بدل دیا ہے بلکہ کئی پرانے اتحادیوں کو ایک دوسرے سے دور بھی کر دیا ہے۔آج مشرقِ وسطیٰ میں دو نمایاں بلاکس ابھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک جانب متحدہ عرب امارات، بھارت اور اسرائیل کا اتحاد ہے جو ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور کسی حد تک ایران پر مشتمل ایک ایسا حلقہ تشکیل پاتا دکھائی دے رہا ہے جو خطے میں ایک متبادل تزویراتی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ دونوں بلاکس ابھی باضابطہ عسکری اتحاد کی شکل اختیار نہیں کر سکے، لیکن ان کے خدوخال روز بروز واضح ہوتے جا رہے ہیں۔یہ نئی صف بندی دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب صرف مذہبی نعروں یا جذباتی وابستگیوں کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔ طاقت کی نئی کرنسی اب معیشت، دفاعی ٹیکنالوجی،اٹامک پاور، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، بندرگاہیں، توانائی کی راہداری اور مصنوعی ذہانت بن چکی ہے۔ اسی تناظرمیںمتحدہ عرب امارات نے مغربی سرمایہ کاری، اسرائیلی ٹیکنالوجی اور بھارتی منڈی کو اپنی خارجہ حکمتِ عملی کا محور بنا لیا ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ متحدہ عرب امارات نے اس شراکت داری کو مزید واضح کر دیا۔ اماراتی قیادت کی جانب سے غیر معمولی پروٹوکول اور گرمجوشی دراصل اس بدلتی ترجیح کی عکاسی تھی جس میں بھارت کو اب پاکستان کے مقابلے میں زیادہ اہم تزویراتی شراکت دار سمجھا جا رہا ہے۔ یو اے ای اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ بھارت نہ صرف ایک بڑی منڈی بلکہ ایک معاشی اور عسکری قوت بھی ہے جسکے ساتھ تعلقات اسے زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔اسی طرح اسرائیلی دفاعی ماہرین، سائبر سکیورٹی کمپنیوں اور جدید نگرانی کے نظاموں کی امارات میں موجودگی نے یو اے ای کو خطے میں ایک نئی دفاعی حیثیت تو دے دی ہےلیکن غیروںپر تکیہ کرنا کوئی دانشمندی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب امارات اسرائیلی ٹیکنالوجی اور بھارتی تعاون کو زیادہ قابلِ اعتماد سمجھنے لگاہے۔پاکستان کیلئے یہ صورتحال خوش آئند نہیں ۔ ماضی میں پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ جذباتی اور دفاعی نوعیت کے تھے۔ پاکستانی ماہرین نے اماراتی فضائیہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ لاکھوں پاکستانی محنت کشوں نے امارات کی تعمیر و ترقی میں بنیادی حصہ ڈالا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہوتے گئے۔پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندیاں،ہزاروںافراد کی بیدخلی، قرضوں کی واپسی کیلئے دباؤ اور سفارتی فاصلے نے اس حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ یو اے ای اپنی ترجیحات تبدیل کرچکاہے۔ امارات اب پاکستان کو ایک جذباتی اتحادی کے بجائے ایک محدود معاشی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ بھارت اور اسرائیل کو مستقبل کے تزویراتی ساتھیوں کی حیثیت دے رہا ہے۔اس طرزعمل کے پس منظر میں گوادر بندرگاہ سب سے اہم عنصر ہے۔ چین کے تعاون سے تعمیر ہونے والی گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبہ دراصل خطے کےمعاشی جغرافیہ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر گوادر مکمل طور پر فعال ہو جاتی ہے تو یہ چین، وسطی ایشیا اور خطے کے دیگر ممالک کیلئے ایک متبادل تجارتی راستہ فراہم کرےگی جو دبئی اور خلیجی بندرگاہوں کی معاشی برتری کو چیلنج کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ امارات خطے میں اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کیلئے بھارت کے ساتھ قریبی تعاون بڑھا رہا ہے تاکہ مستقبل میں گوادر کے ممکنہ اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ادھر بھارت بھی اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں پاکستان کی متحرک سفارت کاری، سعودی عرب اور قطر کے ساتھ دفاعی تعاون اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتے روابط نے بھارت کو ایک حد تک سفارتی دباؤ میں مبتلا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی نے فوری طور پر یو اے ای کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی تاکہ اسرائیل اور امارات کو اپنے قریب لا کر ایک نیا علاقائی بلاک قائم کر سکے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ایران، اگرچہ اس حلقے کا مکمل حصہ نہیں، لیکن اسرائیل مخالف پالیسی اور خطے میں مغربی اثرات کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے اس ابھرتے توازن میں ایک اہم عنصر بن چکا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مکمل اعتماد ابھی بحال نہیں ہوا، لیکن چین کی ثالثی میں ہونے والی مفاہمت نے خطے میں ایک نئی سفارتی فضا پیدا کی ہے۔مشرقِ وسطیٰ اب کسی ایک عالمی طاقت کا محتاج نہیں رہا۔ جہاں ایک طرف امارات اور اسرائیل کا اتحاد مغرب کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے،وہیں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا ابھرتا ہوا بلاک علاقائی خود مختاری اور حقیقی امن کا ضامن ہے۔ اگرپاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور ایران ایک مضبوط اقتصادی اور دفاعی ڈھانچے میں متحد ہو جاتے ہیں، تو وہ نہ صرف بھارت اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کو ختم کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔حقیقی سلامتی غیر ملکی بیساکھیوں (اسرائیلی ٹیکنالوجی یا امریکی تحفظ) سے ممکن نہیں، بلکہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مضبوط دفاعی اور معاشی اتحادکے ساتھ ساتھ پاکستان کی جانب سے ان ممالک کو اپنی ایٹمی چھتری تلے جمع کرتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے میں ہے۔

تازہ ترین