وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور قیمتوں میں غیر معمولی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، دنیا کی تاریخ میں پہلی بار دبئی کے خام تیل کی قیمت 170 ڈالرز فی بیرل تک پہنچی، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچیں، انشورنس اور سیکیورٹی اخراجات بڑھنے سے پاکستان کو اضافی ادائیگیاں کرنا پڑیں۔
علی پرویز ملک کے مطابق توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک اسٹوریجز اور انفرااسٹرکچر کی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے، حکومت نے مستقل پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے سے متعلق مشاورت مکمل کر لی ہے، تاہم اس مقصد کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالرز کے اخراجات درکار ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو ماہانہ تقریباً 55 کروڑ ڈالرز مالیت کا خام تیل درکار ہوتا ہے، جبکہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران 2 ارب ڈالرز کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی گئیں۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل نے متبادل سپلائی لائنز کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ قطر اور سعودی عرب نے موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا، سعودی عرب نے یانبو پورٹ کے ذریعے پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات فراہم کیں۔
علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم حکومت نے اس قرضے کو مزید بڑھنے سے روک دیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہو گا اور مقامی سطح پر تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش پر توجہ دینا ہو گی، اس سلسلے میں انڈس اور مکران بیسن میں نئے بلاکس کی نیلامی کی گئی ہے، جبکہ ترکش پیٹرولیم نے بھی پاکستان میں اپنا دفتر قائم کر لیا ہے۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ ریفائنری اپ گریڈیشن اسکیم گزشتہ 3 برس سے تعطل کا شکار ہے اور اب اس منصوبے کو جلد آگے بڑھانا ہو گا تاکہ ملک کی توانائی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔