تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی ہے جبکہ ایرانی خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیاہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تہران آمد متوقع ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا حتمی مسودہ طے پا گیا ہے جس کا اعلان اگلے چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔
امریکی وزیر خارجہ روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے حوالے سے کچھ مثبت اشارے موجود ہیں‘پاکستانی حکام تہران کا دورہ کریں گے‘ امید ہے کہ اس دورے سے سفارت کاری کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نافذ کیا تو ایران سے معاہدہ ممکن نہیں ہوگا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاہم ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرکے اسے تباہ کردیں گے ‘ ہرمز میں ٹول ٹیکس وصولی قبول نہیں‘ ناکہ بندی کی وجہ سے آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک جنگ کو ختم نہیں سمجھیں گے جب تک افزودہ یورینیم ایران سے ہٹا نہیں دیا جاتا‘ تہران پراکسی ملیشیاؤں کی حمایت بند نہیں کردیتا اور اس کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو ختم نہیں کر دیا جاتا۔
دوسری جانب ایرانی آرمی چیف نے یہ عزم دہرایا ہے کہ مسلح افواج ملکی دفاع کیلئے تیار ہیں جبکہ دو سینئر ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ہتھیاروں میں استعمال کے قابل یورینیم بیرون ملک نہیں جانی چاہئے۔
تاہم ایک سینئر ایرانی اہلکار نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا کہ رہبر اعلیٰ نے یورینیم ملک میں رکھنے سے متعلق ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا‘یہ معاہدے کے دشمنوں کا پروپیگنڈا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران خود اس جوہری مواد کی افزودگی کو کم کرے گا‘یہ اگلے مرحلے کے مذاکرات کا موضوع ہے۔ اماراتی صدر کے مشیر انور قرقاش نےہرمز میں اماراتی پانیوں پر ایران کے کنٹرول کے منصوبے کو دیوانے کا خواب قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
دریں اثناء ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے تاہم اختلافات میں کمی آئی ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کی یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول اب بھی اختلافی نکات میں شامل ہیں۔
ادھراقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف امریکی صدر کی بار بار اور روزانہ کی دھمکیوں پر خاموش یا لاتعلق نہیں رہنا چاہئے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 31 بحری جہاز ہرمز سے گزرے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے حوالے سے کچھ مثبت اشارے موجود ہیں۔پاکستانی حکام جمعرات کو تہران کا دورہ کریں گے اور امید ظاہر کی کہ اس سے پیش رفت میں مدد ملے گی۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر کی ترجیح ایک اچھا معاہدہ کرنا ہے، یہی ان کی ہمیشہ سے ترجیح رہی ہے۔