بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بھارت میں جہیز کے باعث ہونے والی خواتین کی اموات میں کمی آئی ہے مگر مسئلہ اب بھی سنگین شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حالیہ دہائی میں مجموعی طور پر کمی کے باوجود جہیز کی وجہ سے ہونے والی اموات بھارت میں ایک المناک حقیقت بنی ہوئی ہے جو سالانہ 6,000 سے زیادہ جانیں لے رہی ہے، یعنی کہ ہر 90 منٹ میں 1 شادی شدہ عورت گھریلو تشدد، ہراسانی یا جہیز کے مطالبے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق 2024ء میں جہیز کے مطالبے کے سبب 5,737 خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، یعنی روزانہ 15 سے زائد اموات ریکارڈ ہوئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں بھوپال میں تویشا شرما اور گریٹر نوئیڈا میں دیپیکا نگر کی مشتبہ اموات نے ایک بار پھر جہیز کے نام پر ہونے والے تشدد کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے، دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
بھارتی اعداد و شمار کے مطابق 2015ء میں جہیز کے سبب ہونے والی اموات کی تعداد 7,634 تھی جو 2024ء میں کم ہو کر 5,737 رہ گئی، اگرچہ گزشتہ 10 برسوں میں تقریباً 1,900 کیسز کی کمی آئی لیکن صورتِ حال اب بھی تشویش ناک ہے۔
اتر پردیش سب سے زیادہ متاثرہ ریاست رہی جہاں 2024ء میں 2,038 جہیز کے سبب ہونے والی اموات رپورٹ ہوئیں جو ملک بھر کے مجموعی کیسز کا ایک تہائی سے زیادہ ہیں۔
جہیز کے باعث بہار میں 1,078، مدھیہ پردیش میں 450، راجستھان میں 386 اور مغربی بنگال میں 337 اموات درج کی گئیں۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ جہیز کے تنازعات بعض اوقات براہِ راست قتل کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں، 2024ء میں مغربی بنگال میں 163 جبکہ اڑیسہ میں 161 جہیز کے سلسلے میں قتل کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
راجستھان، بہار اور اتر پردیش میں بھی درجنوں خواتین کو اسی وجہ سے قتل کیے جانے کے واقعات سامنے آئے۔
بھارت میں شوہر اور سسرالی رشتے داروں کے ظلم و تشدد کے کیسز بھی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
2024ء میں بھارت بھر میں ایسے 1.20 لاکھ سے زائد مقدمات درج ہوئے، اتر پردیش اور مغربی بنگال اس فہرست میں سرِفہرست رہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جہیز ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں تاخیر بھی بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
2024ء میں تقریباً 37 فیصد مقدمات زیرِ التواء رہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ خواتین کو فوری انصاف نہیں مل پا رہا۔