• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عرفان اطہر قاضی پاکستان میں ٹیکس چوری اب محض ایک جرم نہیں رہی، یہ ایک طاقت ور مافیا اور ریاستی کمزوری کی علامت بن چکی ہے۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ حکومت خود ٹی وی پر اشتہار چلا کر قوم کو بتاتی ہے کہ ’’سگریٹ مافیا سالانہ سو ارب ڈالرز سے زائد کی ٹیکس چوری کرتا ہے‘‘، مگر سوال یہ ہے کہ اگر ایف بی آر کو سب معلوم ہے، اگر حکومت کو سب پتہ ہے، اگر وزراءاسمبلیوں میں کھڑے ہو کر اعتراف کر رہے ہیں کہ ملک کو مافیا کھا رہے ہیں، تو پھر یہ مافیا قانون کی پکڑ میں کیوں نہیں آتے؟ آخر یہ کون سی طاقتیں ہیں جو پاکستان کے قانون سے زیادہ مضبوط ہیں؟ مسئلہ صرف سگریٹ مافیا تک محدود نہیں۔ شوگر مافیا، سیمنٹ مافیا، کھاد مافیا، ادویات مافیا، پٹرول مافیا، پراپرٹی مافیا، اسمگلنگ مافیا اور یہاں تک کہ بعض ڈاکٹرز اور بڑے اسپتالوں کا مافیا بھی موجود ہے جو ٹیکس چوری کرتا ہے۔ پاکستان کا اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں ٹیکس چور طاقت ور ہیں اور ٹیکس دینے والےکمزور۔ ایک دکاندار،تنخواہ دار،چھوٹا تاجر، موٹر سائیکل رکھنے والا آدمی تو ایف بی آر کے شکنجے میں آ جاتا ہے، مگر اربوں روپے کھانے والے ”معزز“ قانون سے بالا نظر آتے ہیں۔سگریٹ مافیا کی مثال ہی لے لیجیے۔ پاکستان میںغیر قانونی سگریٹ کی فروخت ریاست کی آنکھوں سے پوشیدہ تو نہیں۔ اگر ایک عام شہری کا شناختی کارڈ، موبائل سم اور بینک اکاؤنٹ حکومت چند سیکنڈ میں ٹریس کر سکتی ہے تو پھر سینکڑوں ارب روپے کے غیر قانونی سگریٹ بنانے والی فیکٹریاں کیوں نہیں پکڑی جاتیں؟کہیںیہ ”حصے داری“ کا کھیل تو نہیں جس میں سب ذمہ دارشریک ہیں؟ شوگر مافیا تو گویا حکومتوں کے اندر حکومت ہے،کئی چینی مل مالکان بڑے سیاست دان ہیں۔ قانون بنانیوالے ہی کاروبار کے کھلاڑی ہونگے تو پھر قانون بے بس ہی ہوگا۔ سیمنٹ مافیا کی کہانی بھی کم خطرناک نہیں۔ پاکستان میں تعمیراتی شعبہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، مگر چند طاقتور کمپنیوں نے مارکیٹ کو یرغمال بنا رکھاہے۔

حکومت کھادکیلئےسبسڈی دیتی ہے مگر اکثریہ سبسڈی مافیا ڈکار جاتاہے۔ کسان مہنگی کھاد خریدتا ہے، فصل کی لاگت بڑھتی ہے اور آخرکار مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ادویات مافیا شاید سب سے بے رحم مافیا ہے۔ بعض ٹیکس چوری کرنیوالی فارما کمپنیاں اربوں روپے کماتی ہیں مگر ٹیکس نیٹ میں پوری طرح شامل نہیں ہوتیں۔ بعض کمپنیاں جان بچانے والی ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھا دیتی ہیں۔ اور اب ذرا ڈاکٹرز مافیا کی بات ہو جائے۔ بڑے شہروں میں کئی معروف ڈاکٹر روزانہ لاکھوں روپے کماتے ہیں مگر انکی آمدنی اور ٹیکس ریکارڈ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کئی کلینکس میں نہ رسید دی جاتی ہے، نہ ٹیکس کا کوئی حساب ہوتا ہے۔ بعض ہسپتال مریض سے لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں مگر مالی شفافیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر ایک عام دکاندار کو ایف بی آر نوٹس بھیج سکتا ہے تو بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں اور سپر اسپیشلسٹ کلینکس کا آڈٹ کیوں نہیں ہوتا؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نظام شفاف نہیں۔ یہاں ایف بی آر اکثر وہاں بہادری دکھاتا ہے جہاں مزاحمت کم ہو۔ تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس کاٹنا آسان ہے، بجلی کے بل میں ٹیکس ڈالنا آسان ہے، پیٹرول پر لیوی لگانا آسان ہے، مگر طاقتور مافیا کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں سیاسی دباؤ، سفارش، رشوت اور طاقت کی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ایف بی آر کے اشتہارات دیکھ کر کبھی کبھی ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی۔ اشتہار میں بتایا جاتا ہے کہ ”قوم کا نقصان ہو رہا ہے، ٹیکس چوری ملک دشمنی ہے“۔ مگر قوم پوچھتی ہے کہ اگر سب کچھ آپ کو معلوم ہے تو کارروائی کہاں ہے؟ آخر یہ کیسا ادارہ ہے جو قوم کو چوروں کا تو بتا دیتا ہے مگر چور پکڑ نہیں پاتا؟

پاکستان میں مسئلہ صرف کرپشن نہیں، بلکہ ”ریاستی بے بسی“ ہے۔ مافیا اس وقت طاقتور ہوتا ہے جب ریاست کمزوری دکھائے۔ جب قانون چند لوگوںکیلئے نرم اور چند کیلئے سخت ہو جائے، جب چھوٹا دکاندار تو گرفتار ہو مگر اربوں کھانے والا پروٹوکول میں گھومے۔ جب اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ خود کاروباری مفادات رکھتے ہوں۔جب احتساب صرف سیاسی مخالفین تک محدود ہو جائے۔بدقسمتی سے ہر حکومت نے مافیا کے خلاف نعرے تو لگائے مگر عملی جنگ کم ہی لڑی ۔ کسی نے شوگر مافیا کو ہاتھ نہیں لگایا، کسی نے سگریٹ مافیا کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا، کسی نےا سمگلنگ نیٹ ورکس کو نہیں توڑا۔ وجہ صاف ہے، مافیا صرف معاشی طاقت نہیں رکھتا، اس کے پاس سیاسی اثر و رسوخ بھی ہوتا ہے۔

پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا المیہ ”ان ڈاکومنٹڈ اکانومی“ بھی ہے۔ اربوں روپے کی خرید و فروخت بغیر رسید، بغیر ٹیکس اور بغیر ریکارڈ کے ہوتی ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں کالا دھن لگتا ہے، مارکیٹوں میں کیش اکانومی چلتی ہے۔ اس پُورے نظام میں ایماندار آدمی سزا بھگتتا ہے جبکہ چالاک آدمی کامیاب کاروباری کہلاتا ہے۔عوام بھی اب یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ آخر کب تک صرف غریب ہی ٹیکس دے گا؟ بجلی پر ٹیکس، گیس پر ٹیکس، موبائل پر ٹیکس، آٹے پر ٹیکس، پیٹرول پر ٹیکس، ہر چیز پر ٹیکس عوام دے رہے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے اربوں روپے کے محلات، فیکٹریاں، فارم ہاوسز اور بیرون ملک جائیدادیں بنائیں، ان سے ریاست کیوں گریزاںرہتی ہے؟ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منتخب حکومتیں نہیں بلکہ یہی کارٹیل اصل حکمران ہیں۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو پھر سب سے پہلے ایف بی آر کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنا ہوگا۔ بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔ ٹیکس چور صنعتوں، بڑے ہسپتالوں، جعلی کمپنیوں اورا سمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی۔ صرف غریب پر بوجھ ڈال کر معیشت نہیں چل سکتی۔

تازہ ترین