• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب خامشی انسان کو مسحور کردیتی ہے، الفاظ دسترس میں نہیں آتے اور دل شکر کی تجسیم بن جاتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز سے نوازا جانا یقیناً میری زندگی کا ایک بڑا لمحہ ہے، مگر میں دل کی گہرائیوں سےمحسوس کرتا ہوں کہ یہ اعزاز صرف محمد یاسین خان کا نہیں۔ یہ اُن ہزاروں بچوں کا اعزاز ہے جو تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا اور خون کے دیگر امراض کیساتھ روز زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ اُن ماؤں کی دعاؤں کا صلہ ہے جنہوں نے اپنے بچوں کیلئے رتجگے کاٹے اور نمناک آنکھوں سے اللہ کے حضور دامن پھیلا کر دعائیں کیں۔ یہ اُن رضاکاروں، ڈاکٹرز، نرسز، خون عطیہ کرنے والے افراد اور سندس فاؤنڈیشن کی پوری ٹیم کی محنت کا اعتراف ہے جنہوں نے انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھ کر نبھایا۔ 80ءکی دہائی میں میرا یہ سفر فاطمید فاؤنڈیشن سے شروع ہوا۔ اُس وقت تھیلیسیمیا کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر تھی۔ مریض بچوں کے والدین بے بسی کا شکار تھے اور خون کا حصول ایک بڑا مسئلہ تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے والدین دیکھے جو اپنے بچے کی زندگی بچانے کیلئے اسپتالوں کے باہر گھنٹوں کھڑے رہتے ۔ میں نے ایسے بچےبھی دیکھے جنکی آنکھوں میں زندگی کی خواہش تھی مگر زندگی بچانے کیلئے وسائل نہ تھے۔ شاید وہی لمحے تھے جنہوں نے میرے دل میں ایک آگ روشن کی۔ میں نے محسوس کیا کہ اگر انسان اپنے حصے کی شمع جلائے تو کئی زندگیاں روشن ہو سکتی ہیں۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ میرے مشن میں بدل گئی اور پھر 1998ء میں سندس فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی گئی۔ وسائل محدود مگر حوصلہ بے پناہ تھا۔ ہمارے پاس بڑی عمارتیں نہیں تھیں، جدید سہولیات نہیں تھیں، ایک یقین ضرور تھا کہ اگر نیت خالص ہو تو اللہ راستے کھول دیتا ہے۔ آج جب میں دیکھتا ہوں کہ سندس فاؤنڈیشن کا نیٹ ورک ملک کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے اور ہزاروں بچے مفت علاج، خون، ادویات اور تشخیصی سہولیات حاصل کر رہے ہیں تو دل شکر سے بھر جاتا ہے۔ تاہم اس سفر میں بے شمار آزمائشیں بھی آئیں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک بچے کیلئے فوری خون درکار تھا اور پوری ٹیم رات بھر ڈونر تلاش کرتی رہی۔ کئی بار والدین کی بے بسی دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا تھا۔ ایسے لمحات بھی آئے جب ہم پوری کوشش کے باوجود کسی بچے کو بچا نہ سکے۔ اُن بچوں کی یاد آج بھی میرے دل میں زندہ ہے۔ شاید یہی دکھ انسان کو انسانیت کے اور قریب لے آتا ہے۔ خدمت صرف ادارے بنانے کا نام نہیں بلکہ خدمت دراصل درد کو محسوس کرنے کا نام ہے۔ اگر آپ کسی ماں کی آنکھ میں موجود خوف کو سمجھ لیں، اگر آپ کسی بیمار بچے کی خاموش مسکراہٹ کو محسوس کر لیں تو پھر انسان اپنی ذات کیلئے جینا بھول جاتا ہے۔2005ء کا ہولناک زلزلہ میری زندگی کے سانحات میں سے ایک تھا آزاد کشمیر میں ہر طرف تباہی، چیخیں اور بے بسی تھی۔ ایسے وقت میں ہم نے متاثرین کے درمیان رہ کر کام کیا۔ ہم نے صرف امداد نہیں پہنچائی بلکہ لوگوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ وہ اکیلے نہیں ۔ پھر 2010 ء میں ڈینگی کی وبا نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ اسپتال بھر گئے، خوف کی فضا تھی، مگر ہماری ٹیم دن رات میدان میں موجود رہی۔ ہم نے علاج، آگاہی اور مریضوں کی مدد کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔ 2019ء میں کورونا کی وبا آئی۔ دنیا بند ہو گئی، لوگ گھروں میں محصور ہو گئے لیکن تھیلیسیمیا کے بچے تو کورونا کے باوجود خون کے محتاج تھے۔ اُس مشکل وقت میں ہماری ٹیم نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر خدمات انجام دیں۔ ہم نے کورونا سے متاثرہ افراد کی مدد بھی کی اور تھیلیسیمیا کے بچوں کو تنہا بھی نہ چھوڑا۔ شاید یہی انسانیت کا اصل امتحان ہوتا ہے کہ مشکل وقت میں آپ دوسروں کیلئے کتنے مضبوط کھڑے رہتے ہیں۔آج جب مجھے ستارۂ امتیاز ملا ہے تو میرے ذہن میں کوئی سرکاری تقریب نہیں آتی، بلکہ مجھے وہ چھوٹے چھوٹے بچے یاد آتے ہیں جو خون لگواتے ہوئے بھی مسکراتے ہیں۔ مجھے وہ مائیں یاد آتی ہیں جو اپنے بچوں کیلئے دعائیں کرتی ہیں۔ مجھے وہ نوجوان یاد آتے ہیں جو خاموشی سے آکر خون عطیہ کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔ یہی لوگ اصل ہیرو ہیں۔میں دل کی گہرائیوں سے اپنی پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔ میں اُن مخیر حضرات کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اعتماد کیا اور اس مشن کا حصہ بنے۔ اگر معاشرے میں احساس زندہ ہو تو کوئی بچہ تنہا نہیں رہتا۔میں حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا اور مجھے پاکستان کا یہ اہم اعزاز عطا کیا جس نے میرا حوصلہ مزیدبڑھا دیا ہے۔ یہاں میں یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری سب سے بڑی خوشی آج بھی وہی ہے جب کوئی بچہ علاج کے بعد مسکرا کر کہتا ہے: ’اب میں بہتر ہوں‘۔ میرے لئے دنیا کا سب سے بڑا اعزاز کوئی میڈل نہیں بلکہ ایک بیمار بچے کے چہرے پر آنیوالی وہ امید ہے جو اُسے جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔یہ راستہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ پاکستان میں آج بھی ہزاروں بچے ایسے ہیں جنہیں علاج، خون اور توجہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں آگاہی پھیلانی ہے، تھیلیسیمیا کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہے، نوجوانوں میں خون عطیہ کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے اور اس مشن کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے آخری سانس تک انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ اگر میری زندگی کسی ایک بچے کی زندگی آسان بنانے میں کامیاب ہو گئی تو یہی میری کامیابی ہوگی۔ یہ ستارۂ امتیاز میرے نام سے زیادہ اُن بچوں کے نام ہے جنہوں نے بیماری کے باوجود جینے کا حوصلہ نہیں چھوڑا۔ یہ اُن والدین کے نام ہے جو امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ اور یہ اُس انسانیت کے نام ہے جو آج بھی اس دنیا کو خوبصورت بنائے ہوئے ہے۔

(صاحب مضمون بانی/صدر سندس فاؤنڈیشن ہیں)

تازہ ترین