• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی تاریخ صرف تلواروں، لشکروں اور خزانوں سے نہیں لکھی جاتی، بعض اوقات قسمت بھی تاریخ کے دھارے موڑ دیتی ہے۔ مگر قسمت کی دیوی ہر ایک پر یکساں مہربان نہیں ہوتی۔ وہ دروازہ سب کے لیے کھولتی ہے لیکن اس دروازے سے اندر وہی داخل ہو پاتے ہیں جن میں جرات، بصیرت اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو۔ قسمت مواقع دیتی ہے، مگر انہیں تاریخ بنانے والے لوگ ہی امر ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نے ہزاروں بادشاہ دیکھے مگرسکندرِ اعظم صرف ایک ہوا۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں ایسے بے شمار کردار ملتے ہیں جن پر وقت مہربان ہوا اور انہوں نے اس مہربانی کو اپنی عظمت میں بدل دیا۔ صلاح الدین ایوبی کو دیکھیے، اگر حالات ان کے حق میں نہ ہوتے، اگر مسلم دنیا صلیبی جنگوں سے تھک نہ چکی ہوتی، اگر بیت المقدس کی آزادی کا جذبہ امت میں نہ جاگا ہوتا تو شاید وہ صرف ایک عام سپہ سالار بن کر رہ جاتے۔ مگر قسمت نے انہیں وقت دیا اور انہوں نے تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا لیا۔

پھر نپولین بوناپارٹ کو دیکھیے۔ ایک معمولی فوجی افسر سے فرانس کا شہنشاہ بننے تک کا سفر صرف قابلیت کا نہیں بلکہ قسمت کے دروازے کھلنے کا بھی نتیجہ تھا۔ فرانس انقلاب کی آگ میں جل رہا تھا، قیادت کا خلا موجود تھا، قوم ایک نجات دہندہ تلاش کر رہی تھی اور نپولین نے اس لمحے کو پکڑ لیا۔ یہی تاریخ کا اصول ہے: وقت سب کو موقع دیتا ہے مگر قسمت والے ہی اسے اپنی تقدیر بنا پاتے ہیں۔برصغیر کی تاریخ میں قائد اعظم محمد علی جناح بھی اسی اصول کی روشن مثال ہیں۔ اگر دوسری جنگِ عظیم نہ ہوتی، اگر برطانوی سامراج کمزور نہ پڑتا، اگر ہندو مسلم اختلافات اپنے عروج پر نہ پہنچتے تو شاید قیامِ پاکستان کا خواب اتنی جلد حقیقت نہ بنتا۔ مگر قائد اعظم نے وقت کی نبض پہچانی، سیاسی حکمت عملی اپنائی اور ایک نئی مملکت دنیا کے نقشے پر ثبت کر دی۔ قسمت نے موقع دیا، قیادت نے اسے تاریخ بنا دیا۔آج پاکستان کی سیاست اور عالمی سفارت کاری میں ایک ایسا ہی نام زیرِ بحث ہے: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر۔ قسمت کی دیوی شاید ان پر بھی خاص مہربان رہی۔ وہ ریٹائرمنٹ سے صرف ایک دن پہلے آرمی چیف مقرر ہوئے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جہاں قسمت کسی اور طرف بھی جا سکتی تھی۔ مگر وقت نے ان کے دروازے پر دستک دی اور انہوں نے اسے صرف قبول ہی نہیں کیا بلکہ اپنی شناخت بنا لیا۔انکے کمان سنبھالتے وقت پاکستان اندرونی خلفشار، معاشی بحران، دہشت گردی اور سیاسی انتشار میں گھرا ہوا تھا۔ سرحدوں پر دباؤ، عالمی تنہائی کے خدشات اور داخلی تقسیم نے ریاست کو کمزور کر رکھا تھا۔ مگر یہی وہ وقت تھا جب عاصم منیر نے خاموش مگر جارحانہ حکمت عملی اپنائی۔ دہشت گردی کے خلاف نئے آپریشنز ہوں، عالمی سفارتی رابطے ہوں یا پاکستان کی عسکری ساکھ کی بحالی، انہوں نے ہر میدان میں اپنی موجودگی منوائی۔

آج صورتحال یہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ پاکستان کو ایک بار پھر خطے میں اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کروانے کی کوششوں میں پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے۔تادم تحریر یہی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور ایران کے مابین حتمی معاہدہ طے پا چکا ہے،امریکی صدر،ایرانی حکام اور عالمی ذرائع ابلاغ اس تاثر کی تصدیق کر رہے ہیں۔اس امن معاہدے کی تشکیل اور تکمیل میں میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور اس کردار کے مرکز میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ امریکی صدر نے جن عالمی راہنماؤں سے کانفرنس کال پر مشاورت کی اس میں پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل نے ہی شرکت کی۔یہ معمولی بات نہیں کہ چند برس پہلے جس پاکستان کو صرف قرضوں، سیاسی بحرانوں اور دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، آج وہ عالمی سفارت کاری میں ثالثی کی بات کر رہا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اگر کسی فوجی قیادت پر اعتماد کا اظہار کریں تو اس کے پیچھے صرف طاقت نہیں بلکہ اعتماد، استحکام اور حکمت عملی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی حلقوں میں عاصم منیر کو ایک’’اسٹرٹیجک مائنڈ‘‘کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مگر تاریخ کا دوسرا رخ بھی ہوتا ہے۔ قسمت صرف افراد پر نہیں، جماعتوں اور حکومتوں پر بھی مہربان ہوتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پر بھی وقت نے غیر معمولی مہربانی کی۔ اقتدار ملا، طاقتور حلقوں کی حمایت ملی، کمزور اپوزیشن ملی، عالمی حالات نے بھی کئی مواقع دیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس موقع سے عوام کو ریلیف ملا؟ کیا مہنگائی کم ہوئی؟ کیا نوجوان کو امید ملی؟ کیا عام آدمی کی زندگی آسان ہوئی؟آج عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ جس حکومت کو استحکام کی علامت بننا تھا، وہ عوامی اضطراب کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ قسمت نے دروازہ کھولا، مگر حکمرانی کی کمزوریوں نے اس موقع کو عوامی مایوسی میں بدل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی کامیابیاں اور حکومتی ناکامیاں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔پاکستان کی عسکری قیادت عالمی سطح پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہے، سفارتی محاذ پر ملک کا وقار بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر دوسری طرف عوام بدترین معاشی دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک عالمی سطح پر کامیابیاں اندرونی بدانتظامی کا بوجھ اٹھاتی رہیں گی؟ کب تک ریاستی استحکام کو کمزور حکمرانی کے سہارے چلایا جائے گا؟تاریخ کا اصول بڑا واضح ہے: قسمت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔ وقت بار بار دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا۔ جو قومیں اور قیادتیں موقع گنوا دیتی ہیں، وہ پھر صرف تاریخ کی کتابوں میں افسوس کے باب بن کر رہ جاتی ہیں۔ آج پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے موڑ پر کھڑا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ’’مقدر کا سکندر‘‘بننے والے عالمی سطح کی کامیابیوں کو داخلی استحکام اور عوامی خوشحالی میں بدل پاتے ہیں یا نہیں۔

تازہ ترین