• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا سب سے حساس اور غیر مستحکم خطہ سمجھا جاتاہے، جہاں ہونیوالی کشیدگی صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ بھی اسی بڑی کشمکش کا حصہ رہا، مگر اب واضح اشارے سامنے آ رہے ہیں کہ دونوں ممالک کسی مفاہمتی معاہدے کے قریب ہیں۔ بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق ایک عبوری مسودے پر پیش رفت ہو چکی ہے اور (تا دم تحریر) آئندہ چند گھنٹوں میںکسی اہم اعلان کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ اس تمام عمل میں سب سے زیادہ توجہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے سفارتی کردار نے حاصل کی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان نے نہ صرف متحرک سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ خود کو ایک قابلِ اعتماد ثالث بھی منوایا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران کا دورہ، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پسِ پردہ رابطے اس بات کی نشاندہی ہیں کہ اسلام آبادسفارتی عمل کا اہم ترین حصہ بن چکا ہے۔ غیر ملکی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں بحال ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہوگا۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ ایک متوازن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے بیک وقت سعودی عرب، قطر، ترکیہ، چین، ایران اور امریکا کے ساتھ تعلقات متوازن رکھنے کی کوشش کی، اور یہی حکمتِ عملی اب اسکے کام آ رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے خطے کے اہم مسلم ممالک کی قیادت سے رابطے بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اب خطے میں اجتماعی سفارتی تعاون کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایران بھی نسبتاً نرم رویہ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ تہران جانتا ہے کہ مسلسل کشیدگی نے اسکی معیشت اور علاقائی اثر و رسوخ دونوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ امریکا بھی ایک طویل اور مہنگی کشمکش سے نکلنے کا خواہاں ہے۔ اسی لیے ٹرمپ نےپاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، جنہوں نے اس ثالثی میں کلیدی کردارادا کیا ، علاوہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان، متحدہ عرب امارات کےصدر محمد بن زاید ،قطر کےامیر تمیم بن حمد الثانی اور مصر کے صدر السیسی سے گفتگو کی تاکہ خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس تاریخی معاہدے پر اعتماد میں لیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کہ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں، اسی بدلتی ہوئی سفارتی فضا کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم واشنگٹن اب بھی ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے بنیادی سکیورٹی خدشات میں شامل رکھے ہوئے ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی ایک بڑی وجہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال بھی ہے۔ یوکرین جنگ، توانائی بحران، چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل عدم استحکام نے امریکا کو ایک نئے توازن کی تلاش پر مجبور کیا ہے۔ دوسری طرف ایران بھی پابندیوں، داخلی دباؤ اور معاشی مشکلات کے باعث محدود مفاہمت کو زیادہ قابلِ عمل راستہ سمجھ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اشارے اس معاہدے کی اہمیت مزید بڑھا دیتے ہیں۔ اگر یہ بحری راستہ مکمل طور پر محفوظ اور کھلا رہتا ہے تو عالمی تیل منڈیوں پر اسکے فوری مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ، چین اور خلیجی ریاستیں بھی اس پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہیں۔ پاکستان کیلئے بھی یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ خطے میں استحکام سے علاقائی تجارت، توانائی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس تمام سفارتی عمل نے ایک اور اہم حقیقت بھی واضح کی ہے کہ عالمی طاقتیں اب پاکستان کوماضی کے برعکس صرف جنوبی ایشیا کے تناظر میں نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے توازن میں بھی اہم کردار کے طور پر دیکھنے لگی ہیں۔تاہم اس تمام عمل کو ضرورت سے زیادہ خوش فہمی سے دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ بداعتمادی سے بھری ہوئی ہے، جبکہ اسرائیل بھی کسی ایسے معاہدے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جو ایران کو خطے میں مزید مضبوط بنا سکتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ مفاہمت اور اسرائیل کے سکیورٹی خدشات کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ ماضی میں بھی کئی مذاکرات آخری مرحلے تک پہنچنے کے باوجود کسی نہ کسی سیاسی یا تزویراتی اختلاف کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان کیلئےسب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ وہ اپنی غیر جانب دار حیثیت برقرار رکھے۔ اگر اسلام آباد واقعی ایک مؤثر ثالث بننا چاہتا ہے تو اسے خطے کی تمام طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھنے ہوں گے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے اسی حکمتِ عملی پر عمل کیا ہے۔ اگر آنیوالے دنوں میں کسی عبوری معاہدے یا مفاہمتی یادداشت کا اعلان ہوتا ہے تو اسکے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، علاقائی اتحادوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔ مگر پاکستان کیلئے اس سے بھی بڑی بات یہ ہوگی کہ دنیا پہلی مرتبہ اسے صرف سکیورٹی مسائل سے دوچار ملک کے طور پر نہیں بلکہ بحرانوں کے حل میں کردار ادا کرنے والی ریاست کے طور پر دیکھے گی۔ آج دنیا جنگی تھکن، معاشی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ایسے میں اگر اسلام آباد واقعی ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آتا ہے تو یہ صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی اعتماد کی بحالی کی علامت ہوگی۔

تازہ ترین