خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 20 سے زیادہ ارکان اسمبلی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ناخوش ہیں۔
ذرائع کے مطابق ناراض ارکان کا شکوہ ہے کہ صوبے میں گورننس اور امن و امان کی صورتحال ابتر ہے، وزیراعلیٰ بیوروکریسی سے اپنی بات منوانے میں ناکام ہیں، افسران وزیراعلیٰ کے بجائے وفاق کی بات مانتے ہیں۔
ناراض ارکان کا یہ شکوہ بھی ہے کہ متعدد بار تحفظات وزیراعلیٰ کے سامنے رکھے مگر عملدرآمد نہ ہوسکا، فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور کابینہ میں توسیع پر بھی ناراض ارکان کو تحفظات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحفظات اور حکمت عملی طے کرنے کیلئے ناراض ارکان کا جلد اجلاس بلائے جانےکا امکان ہے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کا کہنا ہےکہ ارکان صوبائی اسمبلی کی گروپ بندی سےمتعلق خبریں جھوٹی، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، تقسیم کا خواب دیکھنے والے مایوس ہوں گے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل شام طلب کرلیا ، پی ٹی آئی کے تمام ارکان کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور آئندہ لائحہ عمل پر بھی غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ناراض اراکین اسمبلی کی شرکت بھی متوقع ہے، ارکان اسمبلی اپنے گلے شکوے، امن و امان کی صورتحال سے متعلق وزیر اعلیٰ کو آگاہ کریں گے۔