• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ چند ہفتوں سے میں طبی شعبے سے متعلق مختلف مسائل پر ایک مسلسل تحریری سلسلے پر کام کر رہا تھا۔ اس دوران طبی تعلیم، ریگولیٹری اداروں اور صحت کے نظام کی خامیوں کا جائزہ لیا جا رہا تھا، لیکن اسلام آباد میں حالیہ گردہ اسکینڈل اور ایک معروف یورولوجسٹ سمیت متعدد افراد کی گرفتاری نے مجھے وقتی طور پر اس سلسلے کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا کیونکہ یہ مسئلہ براہِ راست انسانی جانوں اور ریاستی ذمہ داری سے جڑا ہوا محسوس ہوا۔

بظاہر یہ ایک مجرمانہ خبر ہے، لیکن اگر اس کے پس منظر میں جھانکا جائے تو یہ پاکستان کے صحت کے نظام کے ایک بڑے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ صرف گردوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی تصویر ہے جہاں ایک طرف غریب اپنی مجبوری میں اپنے جسم کا حصہ فروخت کرنے پر مجبور ہے اور دوسری طرف ایک بیمار شخص زندگی بچانےکیلئے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔

پاکستان میں گردوں کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہر سال ہزاروں افراد گردوں کی دائمی خرابی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے بے شمار مریضوںکیلئےگردے کی پیوندکاری ہی مستقل علاج ہے، لیکن مریضوں کی تعداد اور دستیاب عطیہ دہندگان کے درمیان ایک وسیع خلا موجود ہے۔ نتیجتاً بہت سے مریض مشکلات کا شکار رہتے ہیں اور کئی اپنی زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مریض جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف مہنگا اور طویل ڈائیلاسز ہے جسکے اخراجات عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف گردے کی پیوندکاری کے لیے عطیہ دہندگان کی شدید کمی ہے۔ کئی خاندان اپنی جمع پونجی بھی علاج پر خرچ کر دیتے ہیں مگر پھر بھی مطلوبہ علاج تک نہیں پہنچ پاتے۔غیر قانونی گردہ فروشی کے واقعات دراصل اسی خلا کی پیداوار ہیں۔ جب قانونی راستے محدود اور ناکافی ہوں تو بلیک مارکیٹ اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ غریب افراد معمولی رقم کے عوض اپنا گردہ فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ مریض کئی گنا زیادہ اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ اس پورے عمل میں انسانی وقار اور قانون داؤ پر لگ جاتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ صرف سخت قوانین بنا دینا ہر مسئلے کا حل نہیں۔ اگر قوانین کے نتیجے میں مریضوں کیلئے جائز راستے مزید محدود ہو جائیں تو غیر قانونی راستے خود بخود پیدا ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک نے اس مسئلے کے حل کیلئے مختلف ماڈلز اختیار کیے ہیں۔ پاکستان میں پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی (PHOTA) کا بنیادی مقصد اعضاء کی قانونی پیوندکاری کی نگرانی اور غیر قانونی کاروبار کا خاتمہ ہے، لیکن سخت قانونی ڈھانچے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ عمل درآمد، مردہ عطیہ دہندگان کے فعال نظام کی عدم موجودگی اور مافیاز کے استحصال جیسے عوامل اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ بعض ممالک میں مردہ عطیہ دہندگان کے مؤثر نظام سے اعضاء کی دستیابی میں اضافہ ہوا جبکہ ایران نے حکومتی نگرانی میں ایک منظم نظام متعارف کرایا، اور ایران دنیا کا واحد ملک ہے جہاں گردے کی پیوندکاری کیلئے کوئی انتظار کی قطار موجود نہیں۔ پاکستان شاید کسی ماڈل کو من و عن نہ اپنا سکے، لیکن شفاف رجسٹریشن، ریاستی نگرانی اور مڈل مین کے کردار کے خاتمے سے ضرور سیکھ سکتا ہے۔

پاکستان کو اب جذباتی ردِعمل کے بجائے عملی اصلاحات کی طرف جانا ہوگا۔ سب سے پہلے مردہ عطیہ دہندگان کے نظام کو فروغ دینا ہوگا۔ اس کے ساتھ حکومتِ پنجاب کے اس فیصلے پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے جسکے تحت تدریسی ہسپتالوں میں قائم گردوں کی پیوندکاری کی متعدد سہولیات محدود کر کے خدمات کا بڑا بوجھ لاہور کے ایک مرکز PKLIپر منتقل کر دیا گیا۔ اس سے بالخصوص دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو طویل سفر اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحت کی سہولتوں کا مقصد مریضوں کیلئے آسانی پیدا کرنا ہونا چاہیے نہ کہ علاج کو چند مراکز تک محدود کرنا۔ حکومت کو بیمہ اور سبسڈی کے ذریعے اس علاج کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا ہوگا۔ قانون سازی ایسی ہونی چاہیے جو غیر قانونی کاروبار کا راستہ بند کرے مگر مریض کیلئے زندگی کے دروازے بھی بند نہ کرے۔

ہمارے معاشرے میں اعضا عطیہ کرنے کے حوالے سے مذہبی اور سماجی خدشات بھی موجود ہیں۔ یہ مسئلہ صرف نظریاتی یا انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے انسانی نتائج بھی نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ چند سال قبل ہمارے دوست اور ملک کے معروف بیوروکریٹ قاضی آفاق حسین، گردے کے رضاکارانہ عطیہ دہندگان کی دستیابی کے باوجود، غیر لچکدار قانونی تقاضوں کے باعث بروقت پیوندکاری سے محروم رہے اور بالآخر جان کی بازی ہار گئے۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ قوانین کا مقصد اگر انسانی جانوں کا تحفظ ہے تو کیا غیر معمولی حالات میں مناسب گنجائش کی ضرورت بھی موجود ہونی چاہیے؟

بہت سے لوگ لاعلمی یا غلط فہمی کے باعث اعضا عطیہ کرنے کے تصور سے ہچکچاتے ہیں، حالانکہ قرآنِ کریم انسانی جان کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ سورۃ المائدہ کی آیت 32 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور جس نے ایک جان کو بچایا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔‘‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ علما، طبی ماہرین اور سماجی ادارے مل کر عوامی رہنمائی میں کردار ادا کریں۔

اسلام آباد کی حالیہ گرفتاریاں ایک بڑے نظامی خلا کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اگر ایک طرف غریب اپنی غربت کی قیمت اپنے جسم کے اعضا سے ادا کرے اور دوسری طرف ایک مریض صرف عطیہ دہندہ نہ ملنے کے باعث زندگی کی امید کھو دے تو پھر سوال صرف یہ نہیں کہ نظام کہاں ناکام ہوا بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں زندگی اور موت کے درمیان صرف ایک طویل انتظار باقی رہ جائے۔

تازہ ترین