• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

10 کروڑ روپے سے زائد بینک لین دین کی معلومات ایف بی آر کو فراہم کرنا لازمی قرار

اسلام آباد (رپورٹ: حنیف خالد) 10 کروڑ روپے سے زائد بینک لین دین کی معلومات ایف بی آر کو فراہم کرنا لازمی قرار ۔بینک اکاؤنٹس کے ڈیٹا کی خودکار کراس میچنگ، نمایاں تضاد پر نیشنل فیس لیس سینٹر کارروائی کرے گا ،منظور شدہ فنانس ایکٹ 2026-27کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس میں نئی دفعہ 165AB شامل کر دی گئی ہے، جس کے مطابق تمام بینکنگ کمپنیاں اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (EMIs) ہر ایسے اکاؤنٹ ہولڈر کی معلومات سینٹرل ڈیٹا ہب پر اپ لوڈ کریں گی جس کے تمام بینک اکاؤنٹس میں چھ ماہ کی رپورٹنگ مدت کے دوران مجموعی طور پر جمع یا نکلوائی گئی رقم 10کروڑ روپے سے تجاوز کرے۔ فراہم کی جانے والی معلومات میں اکاؤنٹس کی ابتدائی اور اختتامی بیلنس، مجموعی کریڈٹس، بلند ترین کریڈٹ بیلنس (پیک کریڈٹ) اور جمع و نکاسی کی مکمل تفصیلات شامل ہوں گی۔ قانون کے مطابق یہ معلومات ابتدا میں صرف خودکار ڈیجیٹل کراس میچنگ کے ذریعے ٹیکس اور بینکنگ ڈیٹا کے موازنے کے لیے استعمال ہوں گی اور اس مرحلے پر انکم ٹیکس حکام کو براہ راست دستیاب نہیں ہوں گی۔ اگر نظام کسی اکاؤنٹ میں نمایاں تضاد کی نشاندہی کرے تو معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے کمپلائنس رسک مینجمنٹ (CRM) سسٹم کو منتقل کیا جائے گا، جہاں نیشنل فیس لیس سینٹر قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے گا۔ قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بینکوں سے حاصل ہونے والی معلومات مکمل طور پر خفیہ رکھی جائیں گی اور انہیں متعلقہ قوانین میں فراہم کردہ رازداری کے تقاضوں کے برخلاف ظاہر یا استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ رپورٹنگ سال میں دو مرتبہ ہوگی، پہلی مدت یکم جولائی سے 31 دسمبر اور دوسری یکم جنوری سے 30 جون تک ہوگی، جبکہ متعلقہ معلومات بالترتیب 31 جنوری اور 31 جولائی تک سینٹرل ڈیٹا ہب میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید