5 جون کو بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کو پاکستان کی مائیکرو اکنامک آؤٹ لک رپورٹ پیش کی گئی جس میں 2025-26 میں ملکی معیشت کے اہم شعبوں کی کارکردگی پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملکی جی ڈی پی گروتھ 3.99 فیصد رہی جبکہ اسٹیٹ بینک کا ہدف 3.75 سے 4.75 فیصد تھا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافے سے جی ڈی پی گروتھ متاثر ہوئی ہے، اپریل میں افراط زر (CPI) بڑھ کر 10.9 فیصد جبکہ SPI، 14.42 فیصد رہا، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر غیر ملکی ادائیگیوں کے باوجود 17 ارب ڈالر پر مستحکم رہے جو 2.5 ماہ کی امپورٹ کے برابر ہیں، ایف بی آر کے ریونیو وصولی ہدف میں 610 ار ب روپے کے شارٹ فال کی وجہ سے تیسری سہ ماہی میں ریونیو وصولی 9304 ارب رہی، مالی خسارہ 5.8 فیصد رہا جبکہ آئی ایم ایف کا ہدف 5 فیصد تھا، اِسی طرح جولائی سے مارچ 2025-26 میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.86 بلین ڈالر سرپلس رہا جبکہ گزشتہ 2024-25 میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.674 بلین ڈالر خسارہ تھا، فی کس سالانہ آمدنی بڑھ کر 1900 ڈالر (203000 روپے) رہی، ترسیلات زر، جس میں 55 فیصد خلیجی ممالک سے آتی ہیں، مالی سال کے اختتام پر 41.2 ارب ڈالر متوقع ہیں۔ 2026 میں مالی اخراجات جی ڈی پی کا 20.3 فیصد رہے اور پرائمری بیلنس جی ڈی پی کا 1.6 فیصد رہا، ایکسٹرنل قرضے بڑھ کر 137.56 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو جی ڈی پی کا 69.2 فیصد ہے جبکہ گزشتہ سال یہ 71.2 فیصد تھے جسکی ایک وجہ شرح سود میں کمی ہے۔ پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 278 روپے پر مستحکم رہا۔ اگر ہم پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی وصولی کو ٹیکس ریونیو میں شامل کرلیں تو جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح 12 فیصد تک پہنچ جاتی ہے لیکن PDL ٹیکس نہیں بلکہ ایک لیوی ہے اور براہ راست وفاقی حکومت کو جاتا ہے جسے نکالنے کے بعد جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح تقریباً 9.5 فیصد رہ جاتی ہے۔
گزشتہ روز حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں 22 روپے کمی کا اعلان کیا جسکے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 380.78 روپے ہوگئی ہے جس میں 42.60 روپے (11 فیصد) PDL شامل ہے جبکہ پیٹرول کی نئی قیمت 381.78 روپے ہوگئی ہے جس میں 117.41 روپے (31 فیصد) PDL شامل ہے جو ڈیزل کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زائد ہے حالانکہ آئی ایم ایف نے پیٹرول اور ڈیزل پر 80 روپے لیٹر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) لگانے کی تجویز دی تھی مگر حکومت نے پیٹرول پر 117.41 روپے لیٹر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عائد کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ اگر 2.5 روپے لیٹر کاربن لیوی، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز کو شامل کیا جائے تو یہ مجموعی 145 روپے لیٹر بنتے ہیں جو پیٹرول کی قیمت کو ناقابل برداشت بنادیتے ہیں۔ 2025-26 میں آئی ایم ایف نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کا ہدف 14680 ارب روپے رکھا ہے جس میں سے حکومت جولائی سے اپریل 2026ء تک 13330 ارب روپے وصول کرچکی ہے جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27 میں 18 فیصد اضافے سے PDL کا ہدف 17270 ارب روپے رکھا گیا ہے جو نان ٹیکس ریونیو کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے، امپورٹس (57.4 ارب ڈالر) میں اضافے اور ایکسپورٹس (25.2 ارب ڈالر) میں کمی کی وجہ سے ہمارا تجارتی خسارہ 32.2 ارب ڈالر رہا جو بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ گردشی قرضے ریکارڈ 5200 ارب روپے کی خطرناک حد تک پہنچ گئے ہیں جس میں پاور سیکٹر کے 1760 ارب روپے اور گیس سیکٹر کے 3440 ارب روپے ہیں، بینکوں کے شرح سود میں اضافے سے نجی شعبے کے قرضوں میں کمی آئی ہے، نوجوانوں میں بیروزگاری 13 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ غربت 22 فیصد سے بڑھ کر 30فیصد تک پہنچ گئی ہے، زرعی شعبے کی کارکردگی مایوس کن رہی اور کسان کو شدید مالی نقصانات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے آنے والے سالوں میں ملک کو فوڈ سیکورٹی کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی بحالی کیلئے کچھ مراعات اور 7E انکم ٹیکس کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ خلیج میں تناؤ کے مدنظر توقع ہے کہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری آئے گی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔
قائمہ کمیٹی فنانس کی کوشش ہے کہ آنے والے بجٹ میں پرسنل اور کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح میں کمی اور سپر ٹیکس کا خاتمہ، خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں اور ڈسکوز کی ترجیحی بنیادوں پر نجکاری، ٹیکس اور انرجی سیکٹر میں اصلاحات، سرکولر ڈیٹ میں کمی اور PDL کو ریونیو وصولی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر نے بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کے علاوہ ایکسپورٹ پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے کامطالبہ کیا ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر پر مجموعی 68 فیصد ٹیکسز ہیں جو ملک میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جبکہ ویت نام، بنگلہ دیش اور بھارت میں یہ ٹیکسز 20 سے 25 فیصد ہیں۔ ملک میں مہنگائی کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ متوقع ہے لیکن ملک کی مالی صورتحال کے مدنظر عوام کو مراعات دینے کیلئے حکومت کے پاس نہایت کم مالی گنجائش موجود ہے۔ اس لحاظ سے آئی ایم ایف کی نگرانی میں آنے والا بجٹ سخت ہوگا۔