کراچی میں پاکستان ایمپلائز کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) کی زمین پر تعمیرات کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق قبضہ مافیا نے 21 اپریل کو محکمہ لینڈ کی جعلی این او سی ظاہر کرکے ہل پارک انتظامیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق کے ایم سی نے 28 اپریل کو ڈی جی پارکس کو خط لکھ کر این او سی سے آگاہ کیا، بعد ازاں این او سی جعلی ہونے کی تصدیق ہوگئی۔ اس کے بعد قبضہ مافیا نے محکمہ لینڈ سے رجوع کیا، جس پر 30 اپریل کو ایک مشروط این او سی جاری کی گئی۔
خط کے متن کے مطابق مشروط این او سی میں واضح ہدایات دی گئیں کہ سرکاری اراضی اور پارک کی حدود میں کسی قسم کی تعمیرات نہ کی جائیں۔
مزید دستاویزات کے مطابق محکمہ لینڈ نے 18 مئی کو سیکریٹری پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور، بلاک 6 کی ملکیت کی تفصیلات طلب کیں۔ خط میں سہیل اقبال کو پلاٹ کا مالک اور وجاہت حسین کو پاور آف اٹارنی ظاہر کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق پلاٹ کی ملکیت کے حوالے سے کے ایم سی کو محکمہ لینڈ سے تاحال کوئی جوابی خط موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب عید سے قبل میئر کراچی نے ہل پارک سے متصل زمین پر تعمیراتی کام رکوا دیا تھا۔
کے ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔