• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی فیصلہ ساز اشرافیہ گزشتہ چند دہائیوں سے ایک عجیب نفسیاتی الجھن کا شکار ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غیر ملکی یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ہو، عالمی مالیاتی اداروں میں کام کر چکا ہو، انگریزی روانی سے بولتا ہو اور اس کے نام کے ساتھ بین الاقوامی بینکوں اور مالیاتی اداروں کا تجربہ جڑا ہو تو وہ لازماً معاشی معجزے دکھا سکتا ہے۔ شاید اسی سوچ کے تحت جب محمد اورنگزیب وزارتِ خزانہ کے منصب پر فائز ہوئے تو قوم کے ایک بڑے طبقے نے امید باندھ لی کہ اب معیشت سنبھل جائے گی، سرمایہ کاری کا سیلاب آئے گا، صنعت کا پہیہ تیزی سے گھومے گا اور عوام مہنگائی کے عذاب سے نجات پا لیں گے۔محمد اورنگزیب کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر بلاشبہ متاثر کن ہے۔ وہ عالمی بینکاری کے شعبے میں طویل تجربہ رکھتے ہیں،۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت صرف بینکاری کے تجربے سے چل سکتی ہے؟ کیا ایک ملک کی معیشت اور ایک بینک کی بیلنس شیٹ میں کوئی فرق نہیں؟

دو سال قبل پاکستان کو جن معاشی مسائل کا سامنا تھا، عوام آج بھی ان سے بڑی حد تک نبرد آزما ہیں۔ حکومت معاشی استحکام کے اعداد و شمار پیش کرتی ہے، مگر عام آدمی کی زندگی میں وہ استحکام نظر نہیں آتا۔ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2024-25 میں شرحِ نمو کا ہدف تقریباً 3.6 فیصد رکھا گیا تھا لیکن معیشت صرف 2.7 فیصد کی رفتار سے آگے بڑھ سکی۔ بے روزگاری کا مسئلہ بدستور موجود ہے، صنعتی سرگرمیاں منجمد اور غیر ملکی سرمایہ صفر ہے یہاں تک کہ ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری پر آمادہ نہیں۔

حکومتی بابو،اعداد و شمار کی مدد سے بتاتے ہیں کہ مہنگائی کم ہوئی ہے لیکن یہ الفاظ مہنگائی کے ستائے عوام کے زخموں پر نمک چھڑک دیتے ہیں۔ عوام کا سوال یہ ہے کہ کیا اشیائے خورونوش کی قیمتیں کم ہوئیں؟ کیا بجلی کے بل کم ہوئے؟ کیا گیس سستی ہوئی؟ کیا متوسط طبقے کی قوتِ خرید بحال ہوئی؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر عوام کے لیے اعداد و شمار کی چمک دمک کی اہمیت محدود رہ جاتی ہے۔اس دوران ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھایا گیا۔ خاص طور پر تنخواہ دار طبقہ ایسی گرفت میں آیا کہ اس کے لیے عزت کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کے اصل ٹیکس چور اب بھی بڑی حد تک محفوظ ہیں جبکہ دستاویزی معیشت میں کام کرنے والے شہری آسان ہدف بنے ہوئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ معاشی اصلاحات کا آسان ترین راستہ صرف نئے ٹیکس لگانا رہ گیا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو ہر بار ایسے معاشی ماہرین کی ضرورت ہے جو عالمی مالیاتی اداروں کی عینک سے ملک کو دیکھتے ہوں؟ کیا پاکستان میں ایسے اہل لوگ موجود نہیں جو اس دھرتی کے مسائل کو زمینی حقائق کی روشنی میں سمجھتے ہوں؟ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ کئی وزرائے خزانہ ایسے گزرے ہیں جن کا تعلق آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کی بیوروکریسی سے نہیں تھا۔ سرتاج عزیز، اسحاق ڈار، شوکت ترین، اسد عمر اور مفتاح اسماعیل جیسے ناموں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید بھی ہو سکتی ہے، لیکن ان کی سوچ کی تشکیل پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی ماحول میں ہوئی تھی۔ وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تنخواہ دار افسر نہیں تھے بلکہ پاکستان کے سیاسی اور معاشی دھارے سے وابستہ لوگ تھے۔محمد خان جونیجو کے وزیر خزانہ جناب یاسین وٹو تھے جنہوں نے سیاسی فہم و فراست کے ساتھ ایسے عوام دوست بجٹ پیش کیے جس سے قوم درست معاشی سمت پر گامزن ہوئی۔مزید پیچھے جائیں تو قیام پاکستان سے قبل قائد ملت لیاقت علی خان جو خالص سیاسی پس منظر رکھتے تھے انہوں نے اس وقت کے مسلمانوں کیلئے عظیم معاشی اقدامات کیے۔یہ ضروری نہیں کہ ہر دیسی وزیرِ خزانہ کامیاب ہو اور ہر غیر ملکی تجربے کا حامل ناکام۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ قومی معیشت کے فیصلوں میں ملکی حالات، مقامی صنعت، کسان، تاجر اور عام شہری کی نفسیات کو بھی اہمیت دی جائے۔ پاکستان کو ایسے معاشی معمار درکار ہیں جو صرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کو کامیابی نہ سمجھیں بلکہ معاشی نمو، روزگار اور عوامی خوشحالی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

مسلم لیگ (ن) جس کا قصر اقتدار عوامی خواہشات کے قبرستان پر تعمیر کیا گیا اسے اگر محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ معاشی ٹیم مطلوبہ نتائج نہیں دے رہی تو اسے دل بڑا کرنا چاہیے۔ سیاست میں انا اور ضد کبھی قومی مفاد سے بڑی نہیں ہوتیں۔ اگر پارٹی کے اندر مطلوبہ صلاحیت دستیاب نہیں تو ایسے لوگوں کو بھی موقع دیا جا سکتا ہے جو اختلافات کے باوجود قابلیت رکھتے ہوں۔امریکی سیاست کی ایک دلچسپ مثال ہمارے سامنے ہے۔ 2008ء میں باراک اوباما اور ہیلری کلنٹن ایک دوسرے کے سخت سیاسی حریف تھے۔ صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے دوران، دونوں کے درمیان شدید مقابلہ ہوا، مگر اقتدار میں آنے کے بعد اوباما نے ہیلری کلنٹن کو وزیرِ خارجہ مقرر کر دیا۔ قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی رقابت پر ترجیح دی گئی۔ یہی سیاسی بالغ نظری قیادتوں کو بڑا بناتی ہے۔پاکستان کو بھی اسی ظرف اور وسعتِ قلبی کی ضرورت ہے۔ اگر مفتاح اسماعیل،اسد عمر،یا پھر اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ کا منصب سونپ دیا جائے تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ معیشت سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ درست فیصلوں، اہل افراد اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے سے چلتی ہے۔

آج قوم کا مطالبہ صرف یہ نہیں کہ وزیرِ خزانہ تبدیل کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ معاشی پالیسی کا رخ تبدیل کیا جائے۔ ایسے فیصلے کیے جائیں جو اعداد و شمار کی کتابوں میں نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری پیدا کریں۔ کیونکہ آخرکار کسی بھی معاشی پالیسی کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ عام آدمی کی زندگی کتنی آسان ہوئی، اس کی امید کتنی بڑھی اور اس کے مستقبل پر اعتماد کتنا بحال ہوا۔

تازہ ترین