اردو زبان کےایک بڑے شاعر ڈاکٹر بشیر بدر دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ یہ دکھ بھری خبرمجھے موبائل کے ذریعے معلوم ہوئی۔ بدر صاحب ایک عرصے سے خاموش تھے۔ ان کی طبیعت بہت خراب تھی۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی ادبی دنیا میں طوفان برپا ہوگیا۔ شاعروں نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس اور فیس بک کی آئی ڈی پر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اپنی بنوائی ہوئی کسی پرانے مشاعرے کی تصویریں اپ لوڈ کرنا شروع کردیں۔ شاعر و ادیب جو ڈاکٹر صاحب سے کبھی نہیں ملے تھے انھوں نےبھی ڈاکٹر صاحب کے مشہور اشعار سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا شروع کردیے ۔بشیر بدر کے انتقال کے بعد مختلف فیس بک اور واٹس ایپ گروپوں میں یہ خبر بھی گردش کرتی رہی کہ ان کے جنازے میں لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ افسوس کی بات یہ ہےکہ اب بھی اسی موضوع پر مسلسل بحث جاری ہے۔ اتنا بڑا نقصان ہوگیا۔اتنا بڑا شاعر گزر گیا اس کی شاعری پر بات کرنے کے بجائےلوگ اس غم میں زیادہ فکر مند ہیں کہ ان کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے۔حالی نے کہا ہے کہ
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا
آہٹ ، امیج،آمد اور آسمان جیسے شعری مجموعوں کے خالق بشیر بدر بہت کام کر گئے ہیں۔ان کی غزلوں کی خاص بات ان کامنفرد لہجہ، موسیقیت اور سادہ زبان تھی۔ سہل ممتنع یعنی مشکل بات کو آسانی سے لوگوں تک پہنچانے کا جو فن بڑے فنکاروں میں ہوتا ہے وہ ڈاکٹر صاحب کے پاس تھا۔مجھے انکی یہ غزل بہت پسند ہے جو چندن داس نے بہت اچھی گائی ہے۔
نہ جی بھر کہ دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی ملاقات کی
اس کے علاوہ مسعود اور شیلو کی آواز میں یہ غزل بھی کمال کی ہے۔
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لڑکیاں ڈائری میں مشہور اشعارلکھا کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک ڈائری کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو اس میں زیادہ تر اشعار بشیر بدر صاحب کے تھے۔ سنا ہے کہ اداکارہ مینا کماری کی ڈائری پر بھی بشیر صاحب کا یہ شعر لکھا ہوا تھا۔
اجالے اپنی یا دوں کے ہمارےساتھ رہنے دو
نجانےکس گلی میںزندگی کی شام ہوجائے
کہا جاتا ہے کہ جن شعراء اور ادباءکی شاعری یا نثر ہر دور میں پڑھی جائے وہ کلاسک کا درجہ رکھتی ہے۔ بشیر صاحب کیلئے بھی یہ بات درست ثابت ہوتی ہے۔ بشیر بدر صاحب نے علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے اردوکیا۔ علی گڑھ میگزین کی ادارت سنبھالی۔ غالب نمبر نکالا۔ جوکتابی شکل میں بھی شائع ہوا۔ بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں استادمقرر ہوئے۔وقت گزرتا گیا بشیر بدر مشاعروں میں مصروف رہنے لگے۔ خدا نے ان کو دو بیٹوں سے نوازا تھا۔ بعد میںان کے بیٹے نصرت بدرخود بھی شاعر بنے انھوں نے بے شمار گانے لکھے۔ بھنسالی کی فلم دیوداس کے گانے بھی نصرت نے لکھے۔ قدرت نے بشیر بدر کو ایک بیٹی سے بھی نوازا تھا۔ بیگم شہنازگھر کا خیال رکھتیں۔مختصر یہ کہ جب بشیر بدر بیمار رہنے لگے تو ان کی بیماری سے ان کے حاسدوں نے خوب فائدہ اٹھایا مگر بشیر بدربیماری میں بھی اچھی اور صحت مند غزلیں لکھتے رہے۔ایک مشاعرے کے دوران وہ پاکستان آئے ہوئے تھے کہ ان کی بیگم شہناز کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد بشیر بدر ٹوٹ گئے۔ لیکن انھوں نے ہمت نہ ہاری اپنی زمہ داریوں کو پورا کیا۔ یہی نہیں ایک سانحہ میں متعصب لوگوں نےان کے گھر کو بھی نذر آتش کردیا۔ مگر انھوں نے صبر کا دامن نہ چھوڑا پھر ان کی زندگی میں ایک دن وہ بھی آیا جب وہ خاموش ہوگئے۔ ایسے خاموش کہ ان کے اشعار کوئی اور پڑھ کر ان کو سناتا توان کو اپنا شعر یاد آجاتا اور وہ گنگنانے لگتے۔ بشیر بدر بلاشبہ ایک بڑے شاعر تھے۔ وہ اپنا کلام ترنم سے بھی پڑھا کرتے تھے۔ ان کے حاسدین نے ان پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ مشاعروں کے شاعر ہیں۔ جیسا کہ آج کل بھی یہی کچھ ہمیں فیس بک پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہماری ساری توجہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگی رہتی ہے۔بشیربدران خوش نصیب شاعروں میں سے ایک ہیں۔جن کو شہرت اور عزت ان کے دور ہی میں مل گئی اور یہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جائیگی۔نوجوانوں کو ان پرپی ایچ ڈی کرنی چاہیے۔ ناقدین کو ان کے فن پر کتابیں لکھنی چاہئیں۔
اس وقت ہر جگہ بشیر بدر صاحب پر بات ہورہی ہے، ان کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے مگرایک آواز مجھے بار بار تنگ کر رہی ہے ۔کوئی میرے کان میںکہہ رہا ہے کہ بشیر بدررخصت ہو گئےمگر کیا تم نےدیکھا کہ ان کے جنازے میں کتنے لوگ تھے؟