نئےانتخابات کی دھمک
کوئی مانے یا نہ مانے گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کے ساتھ ہی پورے ملک میں انتخابات کی آہٹیں کچھ حساس کانوں کو سنائی دینے لگی ہیں۔وہاں بلاول بھٹو اپنی بہن آصفہ بھٹو،شازیہ مری اور کچھ ساتھیوں کے ساتھ پہنچے ، وہاں ان کی پذیرائی اور کچھ ایسی علامتی باتوں کے بعد کہ اس خطے سے میرے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا قلبی رشتہ تھا وہ ہوتے تو دیا میر بھاشا ڈیم بھی بن چکا ہوتا کئی آبشاریں، جھیلیں دنیا بھر کے پرندوں،سیاحوں اور فوٹو گرافروں یا مصوروں کی توجہ کا مرکز ہوتیں اور آج یہاں کے نوجوان روزگار کی تلاش میں نہ ہوتے،ان کے پائوں میں اچھے جوتے اور آنکھوں میں بہتر خواب ہوتے۔ان کے جلسوں میں لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کر میاں نواز شریف بھی وہاں آئے،ان کے ساتھ بھی ان کے ساتھی تھے تاہم انہوں نے گلگت کے معصوم لوگوں سے پوچھا کہ آپ نے مجھے کیوں نکالا تھا؟ سیدھی بات ہے کہ میاں صاحب کی دو مرتبہ وزارتِ عظمیٰ سے معزولی اور پھر طے شدہ جلاوطنی کے طویل برسوں میں انہیں صدمہ ہوا کہ متوالے احتجاج کے لئے باہر نہیں آئے۔انہیں ضیا الحق کے دور میں ریٹائرڈ جنرل جیلانی نے اتفاق فائونڈری کے میاں محمد شریف سے مانگا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ جنرل جیلانی نے شہباز شریف مانگا تھا مگر ان کے ابا جی نے کہا کہ ہمیں اپنا بزنس بھی چلانا ہے اس لئے میرا بڑا بیٹا لے جائیں۔ بہر طور ان کے ابا جی اپنے دونوں بیٹوں کے ہنر سے واقف تھے سو آج میاں شہباز شریف پاکستان کے وزیرِ اعظم ہیں اور میاں نواز شریف کی بیٹی محترمہ مریم نواز پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزیرِ اعلیٰ،وہ زیادہ تر مری میں رہتے ہیں لیکن گلگت اور بلتستان کے لوگوں سے ان کے سوالات شاید بے جا تھے۔
تین دن کے بعد گلگت بلتستان میں انتخابات ہو جائیں گے اور پھر توجہ کا مرکز آزاد کشمیر ہوگا۔ آج تو گوگل اور میکانکی ذہانت بہت سی معلومات دے دیتی ہے،گلگت،بلتستان پر بھی کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ کا راج تھا جب چند بہادر اسکائوٹس نے یہاں بغاوت کر کے اسے آزاد کرایا،یہاں برف باری کی وجہ سے چار مہینے راستے بند رہتے ہیں،تب سبزی،پھل اور پینےکے پانی پانی کی سہولتیں بھی کم یاب ہو جاتی ہیں،علاج معالجہ تو دور کی بات ہے۔ اسی ڈوگرے مہاراجہ نے ایک کشمیری پنڈت جواہر لعل نہرو کی ِچِکنی چُپڑی باتوں میں یا بھارتی فوجیوں کی سنگینوں میں مسلمان اکثریت کی ریاست کے بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے اور یوں چناروں،گیتوں اور پرندوں کی اس زمین میں بارود اور خون کی فصل اُگنے لگی۔البتہ دو موقع ایسے آئے کہ لگا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا ایک انیس سو باسٹھ میں چین اور بھارت کی فوجوں میں تصادم ہوا ۔امریکہ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سے کہا کہ اس تصادم سے الگ اور بے تعلق ہو جائو،کشمیر کا مسئلہ ہم حل کرا دیں گے۔ تب جنرل محمد ایوب خان کو یقین تھا کہ ایسا ہو جائے گا سو کہا جاتا ہے کہ میر واعظ مولوی محمد یوسف سے انہوں نے پوچھا کہ اگر آج رائے شماری ہو تو کیا نتیجہ نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے آپ کو بھاری اکثریت ملے گی،تاہم آزاد کشمیر کا میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔شاید اسی لئے ایوب خان نے آزاد کشمیر کا انہیں دو مرتبہ صدر بنایا،البتہ ان کے بعد ان کے بھتیجے مولوی محمد فاروق کی سری نگر کی مسجد میں باقاعدہ دستار بندی ہوئی اور وہ باقاعدہ میر واعظ کشمیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ دوسرا موقع تب آیا جب بی جے پی کے شاعر رہنما اٹل بہاری واجپائی دوستی بس پر بیٹھ کے لاہور میں مینار پاکستان پر آئے اور اعلان کیا یہاں اس لئے آیا ہوں کہ جو کہتے ہیں بھارت،پاکستان کو نہیں مانتا،وہ زبانیں زہر اگلنا بند کردیں۔ تب محسوس ہوتا تھا کہ میاں نواز شریف اور واجپائی دونوں مُلکوں کے بیچ دوستی ،تجارت اور مفاہمت کا نیا باب لکھیں گے،پھر جنرل مشرف نے اس مفاہمت پر خوفناک وار کیا اور ہر طرف زہر،نفرت اور خون کا سمندر حائل ہو گیا۔
ماضی کے یہ ورق اس لئے کھولے جاتے ہیں کہ مستقبل کیلئےکچھ راستے تلاش کئے جائیں،آپ نے پڑھا ہو گا کہ آزاد کشمیر میں خوفناک ہڑتال ہوئی ،دھرنا دیا گیا اور اب بھی اسلام آباد کی کوشش ہے کہ آزاد کشمیر کے مظفر آباد،میر پور اوروادی نیلم میں بسنے والوں سے مفاہمت کے راستے تلاش کئے جائیں ۔اطلاعات کے مطابق مظاہرین کے دو بڑے مطالبے ہیں کہ مہاجرین کی بارہ نشستیں منسوخ کی جائیں،دوسرے وہ پن بجلی گھروں کے سرچشمے پر ہیں،انہیں مفت بجلی دی جائے۔ آپ جانتے ہوں گے کہ جنگ پینسٹھ میں جموں کے مہاجرین کو سیالکوٹ میں آباد کیا گیا انہیں زمینیں بھی الاٹ ہوئیں اب انہیں ڈر ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کے ساتھ کہیں یہ الاٹمنٹ منسوخ نہ ہو جائے، دوسرے ان بارہ نشستوں کی وجہ سے لین دین کے معاملات وزارت امور کشمیر کے سیکرٹری اور پنجاب کے چیف سیکرٹری کے مابین طے ہو جاتے ہیں۔میرے ایک شاگرد ڈاکٹر ضیا کشمیری (بابا) نے مجھے تفصیل بھیجی ہے وگرنہ ہم ایسے استادوں کے پاس معتبر ذرائع کہاں؟ اچھی بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے اور یہ طے ہوا ہے کہ اسی اسمبلی میں آزاد کشمیر کے دستور کی روشنی میں فیصلے ہوں گے اور اگر ضرورت ہوئی تو اس دستور میں ترامیم بھی کی جائیں گی۔
گویا پارلیمنٹ کے فورم پر راستے نکالے جا سکتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کی قیادت گلگت بلتستان کے انتخابات ہی نہیں،دیگر معاملات میں مقبولیت کے باوجود ابھی تک دھرنوں پہ دھرنے دے رہی ہے جس سے ان کے اچھے افراد کبھی افسردہ اور مایوس دکھائی دیتے ہیں سوائے بیرسٹر گوہر کے ،وہ عمران خان کی بہنوں کے جذبات بھی سمجھتے ہیں،بشریٰ بی بی کی توقعات کے ساتھ خیبر پختونخواہ کے سابقہ اور موجودہ وزرائے اعلیٰ کی حکمتِ عملی اور رابطوں کو بھی۔